المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. ذكر أيوب بن أموص نبي الله المبتلى - صلى الله عليه وسلم -
حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر — حضرت ایوب کے ماتھے پر لکھا تھا: آزمائش میں مبتلا صابر
حدیث نمبر: 4158
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني مروان بن جعفر السَّمُري، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثنا مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن بن أبي الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، عن كعب، قال: كان أيوب بن أموص نبيَّ الله الصابرَ الذي جَلَبَ عليه إبليسُ عدوُّ الله بجُنودِه وخَيلِه ورَجِلِه لِيَفتِنُوه ويُزيلُوه عن ذكر الله، فعصمَه اللهُ، ولم يجد إبليسُ إليه سبيلًا، فألقى اللهُ على أيوبَ السكينةَ والصبْرَ على بلائه الذي ابتلاهُ به، فسمّاه اللهُ: ﴿صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ [ص: 44] ، وكان أيوب رجُلًا طويلًا، جَعْدَ الشعر، واسعَ العَينَين، حسَنَ الخَلْقِ، وكان على جَبِينِه مكتوبٌ: المُبتلَى الصابر، وكان قصِيرَ العُنُق، عريضَ الصَّدر، غليظَ الساقَين والساعِدَين، وكان يُعطي الأرامِلَ ويَكسُوهُم، جاهدًا ناصحًا لله ﷿ (1) . قال الحاكم: قد اختلفوا في أيوب أنه في أيِّ وقت أُرسل، فقال وهب بن مُنبِّه: إنه من ولد إبراهيم بعد يوسف، وقال محمد بن إسحاق بن يسار: حدثني مَن لا أتَّهِمُ عن وهب: أنه أيوب بن أمُوص بن رَزاح بن عِيصا بن إسحاق بن إبراهيم، وذُكر عن محمد بن جَرير أنه كان قبل شعيب، وقد احتجَّ أبو بكر بن [أبي] خَيْثَمة أنه كان بعد سليمان بن داود، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ صابر نبی تھے جن کو آزمائش میں ڈالنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنے کے لئے شیطان نے اپنی پیادہ اور سوار تمام فوجیں چڑھا ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور شیطان کو آپ کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی جانب کوئی راہ نہ ملی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے سیدنا ایوب علیہ السلام پر نازل کردہ آزمائش میں، ان پر سکینہ اور صبر نازل فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ (ص: 30) ” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “ کے لقب سے نوازا۔ سیدنا ایوب علیہ السلام دراز قد تھے۔ آپ کے بال سیدھے، آنکھیں کشادہ تھیں، آپ حسن اخلاق کے پیکر تھے، آپ کی پیشانی مبارک پر لکھا ہوا تھا ” المبتلی الصابر “ آپ کی گردن چھوٹی تھی اور سینہ چوڑا تھا، کہنیاں اور پنڈلیاں بھری ہوئی تھیں، آپ رضائے الٰہی کی خاطر مساکین پر مہربانی کرتے اور انہیں کپڑے وغیرہ پہناتے تھے۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام کو کون سے زمانے میں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور سیدنا یوسف علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک غیر متہم شخص نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان سنایا ہے کہ وہ ایوب بن اموص بن رزاخ بن عیصا بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل ہیں۔ محمد بن جریر کا موقف ہے کہ وہ سیدنا شعیب علیہ السلام سے پہلے تھے جبکہ ابوبکر بن خیثمہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام سے پہلے تھے۔ (واللہ اعلم) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4158]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4158 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ من أجل عبد المنعم - وهو ابن إدريس - فهو متروك، وكذَّبه الإمام أحمد، وقد روي من طريق أخرى عن وهب بن مُنبِّه فيها ضعف أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبد المنعم بن ادریس" ہے جو متروک ہے اور امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔ یہ روایت ایک اور طریق سے بھی وہب بن منبہ سے مروی ہے جس میں بھی ضعف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 433 عن محمد بن حميد الرازي، عن سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق قال: ذُكِرَ لي عن (وسقط حرف "عن" من المطبوع خطأً) وهبُ بن مُنبِّه .. فذكره. ومحمد بن حميد الرازي مختلَف فيه، وهو إلى الضعف أقربُ، ولم يبين ابن إسحاق الواسطة بينه وبين وهب، والصحيح في ذلك كما قلنا ما رواه أبو هريرة في قصة وفاته كما تقدم برقم (4152).
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ" 1/ 433 میں محمد بن حمید رازی سے، انہوں نے سلمہ بن فضل سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: "مجھے ذکر کیا گیا وہب بن منبہ سے (مطبوعہ نسخے میں لفظ 'عن' غلطی سے گر گیا ہے)..." پھر انہوں نے روایت ذکر کی۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن حمید رازی "مختلف فیہ" ہیں اور وہ ضعف کے زیادہ قریب ہیں۔ نیز ابن اسحاق نے اپنے اور وہب کے درمیان واسطے کو بیان نہیں کیا۔ اس قصے میں صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا کہ ابو ہریرہ نے وفات کے قصے میں روایت کیا ہے جو نمبر (4152) پر گزر چکا۔
والنَّقير: ما حُفِر وقُوِّر من الحجر والخشب ونحوه ليُجعل فيه الماء وغيره مما يُشرَب.
📝 نوٹ / توضیح: "النَّقیر" سے مراد وہ پتھر یا لکڑی وغیرہ ہے جسے کھود کر اور کرید کر گہرا کیا گیا ہو تاکہ اس میں پانی وغیرہ پینے کے لیے ڈالا جا سکے۔
وقوله: "كما تَكْرَعُ الدابَّة"، من الكَرْع: وهو تناول الماء بالفم من غير أن يشرب بكفِّه ولا بإناء.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "كما تَكْرَعُ الدابَّة"، یہ لفظ "کَرَع" سے ہے جس کا مطلب ہے: منہ لگا کر پانی پینا، بغیر اس کے کہ ہتھیلی یا برتن سے پیا جائے۔
(1) إسناده ضعيف، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، اس کے رجال پر کلام نمبر (4059) کے تحت گزر چکا ہے۔
وقد أخرج الطبري في "تاريخه" 1/ 322 - 323 تفاصيل البلاء الذي ابتُلي به أيوب وتسلُّط إبليس عليه، من رواية وهب بن مُنبِّه بسند حسن إليه، دون ذكر وصفه الذي ورد في هذه الرواية.
📖 حوالہ / مصدر: طبری نے اپنی "تاریخ" 1/ 322-323 میں ایوب علیہ السلام کی آزمائش اور ان پر ابلیس کے مسلط ہونے کی تفصیلات وہب بن منبہ کی روایت سے نکالی ہیں جو ان تک "سندِ حسن" سے مروی ہے، لیکن اس میں ایوب علیہ السلام کے حلیہ کا وہ وصف موجود نہیں جو اس روایت میں آیا ہے۔