🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. حكاية ابتلاء داود - عليه السلام -
حضرت داود علیہ السلام کی آزمائش کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4179
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق الصَّفّار السُّلَمي، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، في قوله ﷿: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ [ص:20] ، قال: كان يَحرُسُه كلَّ يومٍ وليلةٍ أربعةُ آلافٍ أربعةُ آلافٍ. قال السُّدِّي: وكان داود قد قَسَمَ الدهرَ ثلاثةَ أيامٍ: يومًا يقضي فيه بين الناس، ويومًا يَخلُو فيه لعبادته، ويومًا يَخلُو فيه لنسائه، وكان له تسعٌ وتسعون امرأةً، وكان فيما يَقْرأ من الكُتُب: أنه كان يَجِدُ فيه فضلَ إبراهيم وإسحاق ويعقوب، فلما وجَدَ ذلك فيما يَقْرأ من الكُتُب قال: يا ربِّ، أرى الخيرَ كلَّه قد ذهبَ به آبائي الذين كانوا قبلي، فأعطِني مثلَ ما أعطَيتَهم، وافعَلْ بي مثلَ ما فعلْتَ بهم، قال: فأوحى الله إليه: إنَّ آباءك ابتُلوا ببلايا لم تُبْتَلَ بها أنت: ابتُلي إبراهيمُ بذَبْح ابنِه، وابتُلي إسحاق بذَهاب بصرِه، وابتُلي يعقوبُ بحُزنه على يوسف، وإنك لم تُبْتَلَ من ذلك بشيءٍ، قال: يا رب، ابتَلِني بمثلِ ما ابتَلَيتَهم به، وأعطِني مثلَ ما أعطيتَهم، قال: فأوحى الله إليه: إنك مُبتلًى فاحتَرِسْ، قال: فمَكَثَ بعد ذلك ما شاء الله أن يَمكُثَ إذ جاءه الشيطانُ قد تمثّل في صورة حمامةٍ من ذَهَبٍ حتى وقع بين رجلَيه، وهو قائم يصلي، قال: فمَدَّ إليه ليأخذَه، فطار من الكُوّة، فنظر أين يقعُ، فبَعثَ في أثَره، قال: فأبصر امرأةً تَغتسِل على سَطحٍ لها، فرأى امرأةً من أجمل النساء خَلْقًا، فحانَتْ منها الْتِفاتَةٌ فأبصرتْه، فألقَتْ شعرَها فاستَتَرتُ، به فزادَه ذلك فيها رَغْبةً، قال: فسأل عنها، فأُخبر أنَّ لها زوجًا، وأنَّ زوجَها غائبٌ بمَسْلَحةِ كذا وكذا، قال: فبعث إلى صاحب المَسْلَحة يأمُرُه أن يبعثَه إلى عَدُوِّي كذا وكذا، قال: فبعثَه ففُتِح له، فلم يزل يبعثُه إلى أن قُتِل في المرة الثالثة، فتزوج امرأتَه، فلما دخل عليها لم يَلْبَثْ إلّا يسيرًا حتى بعثَ اللهُ مَلَكَين في صورة إنسِيَّين، فطلبا أن يَدخُلا عليه، فوجَداه في يوم عبادته (1) ، فمَنعَهُما الحَرَسُ أن يدخُلا عليه، فتَسَوَّرا عليه المِحْرابَ، قال: فما شَعَرَ وهو يصلي إذا هو بهما بين يديه جالِسَين قال: ففزع منهما، فقالا: لا تَخَفْ إنما نحن ﴿خَصْمَانِ بَغَى بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ﴾ [ص:22] يقول: لا تَحِفْ، وذكر الحديثَ بطوله في إقراره بخطيئته (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4134 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سدی رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَشَدَدْنَا مُلْکَہ اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا۔ ہر روز چار چار ہزار محافظ آپ کی چواکیداری کرتے تھے۔ سدی کہتے ہیں: سیدنا داؤد علیہ السلام نے ایام کی تقسیم کر رکھی تھی۔ ایک دن آپ لوگوں میں فیصلے کیا کرتے تھے، ایک دن آپ عبادت الٰہی کے لئے خلوت نشین رہتے اور ایک دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ آپ کی 99 بیویاں تھیں۔ آپ کتاب میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام کے فضائل و کمالات پڑھا کرتے تھے۔ جب انہوں نے کتب کے مطالعہ میں یہ سب کچھ پا لیا تو عرض کی: اے میرے رب تمام بھلائی تو مجھ سے پہلے میرے آباؤاجداد لے گئے ہیں۔ تو مجھے بھی وہی کچھ عطا کر جو ان کو عطا کیا تھا اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرما جو ان کے ساتھ کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تیرے آباؤاجداد پر جو امتحانات ڈالے گئے تھے تم کو ابھی تک ان سے دوچار نہیں کیا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام سے ان کے لخت جگر کو ذبح کروانے کا امتحان لیا گیا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی بینائی ختم کر کے آزمایا گیا۔ یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے کے فراق کی مصیبت میں دالا گیا اور تمہیں ان میں سے کسی آزمائش میں بھی نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے بھی ان جیسی آزمائش میں بے شک ڈال دے لیکن مجھے وہ عطا کر دے جو کچھ تو نے ان کو عطا کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ٹھیک ہے تمہیں آزمایا جائے گا تم تیار رہو۔ اس کے بعد کچھ وقت گزرا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر شیطان سونے کی کبوتری بن کر ان کے قدموں میں آ کر گرا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو اٹھانے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ روشندان میں سے اڑ گئی۔ آپ دیکھنے لگے کہ کہاں جاتی ہے آپ کی نگاہیں اس کے تعاقب میں تھیں کہ اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو کہ چھت پر نہا رہی تھی آپ نے دیکھا کہ وہ عورت بہت زیادہ حسین و جمیل ہے، اس کی نظر آپ پر پڑ گئی اس نے آپ کو دیکھا اور پھر اپنے بال ڈھلکا لیے۔ پھر وہ آپ سے اوجھل ہو گئی۔ اس وجہ سے آپ کے دل میں اس کی رغبت اور بھی بڑھ گئی۔ آپ نے اس کے بارے میں معلومات کروائیں تو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر کسی (فوجی) اسلحہ کے کارخانے میں کام کرتا ہے، آپ نے کارخانے کے مالک کو پیغام بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے علاقے میں بھیج دو۔ اس کو بھیج دیا گیا تو وہاں فتح ہو گئی۔ آپ مسلسل اس کو جہاد میں بھیجتے رہے حتیٰ کہ تیسری مرتبہ وہ شہید ہو گیا۔ تو آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ جب آپ اس سے ہمبستر ہوئے تو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی شکل میں دو فرشتے ان کے پاس بھیجے۔ انہوں نے آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو وہ آپ کی عبادت کا دن تھا، اس لئے محافظوں نے ان کو اندر آنے سے منع کر دیا تو وہ دونوں دیوار کود کر داؤد علیہ السلام کی مسجد میں آ گئے۔ آپ نماز میں مشغول تھے، اس لئے آپ کو کچھ معلوم نہ ہوا، آپ نے اچانک دیکھا تو وہ دونوں آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام ان سے کچھ گھبرا گئے تو انہوں نے کہا: آپ ڈرئیے مت۔ ہم دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو آپ ہمیں سچا فیصلہ فرما دیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے۔ اس کے بعد آپ کی خطاء کے اقرار کے سلسلہ میں طویل حدیث نقل فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4179]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4179 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): يوم عبادةٍ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "يوم عبادةٍ" ہے۔
(2) رجاله لا بأس بهم إلى السَّدِّي: وهو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة، وإسباط: هو ابن نَصْر. وأخرجه بطوله الطبري في "تفسيره" 23/ 147، وفي "تاريخه" 1/ 479 - 481 من طريق أحمد بن المفضل، عن أسباط، به.
⚖️ درجۂ حدیث: سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ) تک اس کے رجال میں کوئی خرابی نہیں (لا بأس بہم)، اور اسباط سے مراد ابن نصر ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے طوالت کے ساتھ طبری نے "تفسیر" 23/ 147 اور "تاریخ" 1/ 479-481 میں احمد بن المفضل کے طریق سے اسباط سے روایت کیا ہے۔
وقد روي نحو قصة هذه المرأة المذكورة في حديث مرفوع لا يصح سنده، كما قال ابن كثير في "تفسيره" 7/ 51، لأنه من رواية يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك. قلنا: أخرجه الحكيم الترمذي في "نوادر الأصول" (832)، والطبري في "تفسيره" 23/ 150، وفي "تاريخه" 1/ 483 - 484، ومن طريقه الثعلبي في "تفسيره" 8/ 190 - 191 وذكر الحسنُ البصري نحو القصة أيضًا كما أخرجه الطبري في "تفسيره" 23/ 148، وفي "تاريخه" 1/ 482.
🧾 تفصیلِ روایت: اس عورت کا قصہ ایک مرفوع حدیث میں بھی مروی ہے جس کی سند صحیح نہیں، جیسا کہ ابن کثیر نے "تفسیر" 7/ 51 میں کہا، کیونکہ وہ یزید الرقاشی عن انس بن مالک کی روایت سے ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ہم کہتے ہیں: اسے حکیم ترمذی نے "نوادر الاصول" (832)، طبری نے "تفسیر" 23/ 150 اور "تاریخ" 1/ 483-484 میں، اور ان کے طریق سے ثعلبی نے "تفسیر" 8/ 190-191 میں روایت کیا ہے۔ حسن بصری نے بھی اس قصے کو ذکر کیا ہے جیسا کہ طبری نے "تفسیر" 23/ 148 اور "تاریخ" 1/ 482 میں روایت کیا ہے۔
وقال ابن كثير في "البداية والنهاية" 2/ 309 قد ذكر كثير من المفسرين من السلف هاهنا قصصًا وأخبارًا أكثرها إسرائيليات، ومنها ما هو مكذوب لا محالة، تركنا إيرادها في كتابنا قصدًا، اكتفاءً واقتصارًا على مجرد تلاوة القصة من القرآن العظيم. قلنا: يُعرِّض ابن كثير هنا بقصة المرأة، وأنها من الإسرائيليات، كما يوضحه كلامه في "التفسير" حيث أشار إلى حديث يزيد الرقاشي عن أنس.
📌 اہم نکتہ: ابن کثیر "البدایہ والنہایہ" 2/ 309 میں فرماتے ہیں: "بہت سے مفسرین سلف نے یہاں ایسے قصے اور اخبار ذکر کیے ہیں جن میں سے اکثر اسرائیلیات ہیں، اور ان میں سے کچھ یقینی طور پر جھوٹ ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب میں قصداً انہیں ذکر نہیں کیا، اور قرآنِ عظیم میں بیان کردہ قصے کی تلاوت پر ہی اکتفا کیا ہے۔" ہم کہتے ہیں: ابن کثیر یہاں اس عورت والے قصے پر تعریض کر رہے ہیں کہ یہ اسرائیلیات میں سے ہے، جیسا کہ "تفسیر" میں ان کا کلام واضح کرتا ہے جہاں انہوں نے یزید الرقاشی عن انس والی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
والمَسْلَحة: القوم الذي يحفظون الثغور من العدوّ: سمُّوا مسلحةً لأنهم يكونون ذوي سلاح.
📝 نوٹ / توضیح: "المَسْلَحَۃ" ان لوگوں کو کہتے ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ دشمن حملہ نہ کر سکے، انہیں مسلحہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہتھیار بند (ذوی سلاح) ہوتے ہیں۔