المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. أنتم شهداء بعضكم على بعض
تم ایک دوسرے پر گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 418
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا خَلّاد بن يحيى قال. وأخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا داود بن عمرو الضَّبِّي؛ قالا: حدثنا نافع بن عمر الجُمَحي، حدثنا أُميَّة بن صفوان، عن أبي بكر بن أبي زهير الثقفي، عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ بالنَّبَاءَة - أو بالنَّباوَة - يقول:"يُوشِكُ أن تَعرِفوا أهلَ الجنة من أهل النار" أو قال:"خِيارَكم من شِرَارِكم" قيل يا رسول الله، بماذا؟ قال:"بالثَّناءِ الحَسَن، والثناءِ السَّيِّئ، أنتم شهداءُ بعضُكم على بعضٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقال البخاري: أبو زهير الثقفي سمع النبيَّ ﷺ واسمه معاذ. فأما أبو بكر بن أبي زهير فمن كبار التابعين، وإسناد الحديث صحيح ولم يُخرجاه. فقد ذكرنا تسعةَ أحاديث بأسانيدَ صحيحةٍ يُستَدلُّ بها على الحُجَّة بالإجماع، واستقصيتُ فيه تحرِّيًا لمذاهب الأئمة المتقدِّمين ﵃. هذه أخبار صحيحة في الأمر بتوقير العالِم عند الاختلافِ إليه والقعودِ بين يديه، ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 413 - صحيح فَصْلٌ: فِي تَوْقِيرِ الْعَالِمِ «هَذِهِ خْبَارٌ صَحِيحَةٌ فِي الْأَمْرِ بِتَوْقِيرِ الْعَالِمِ عِنْدَ الِاخْتِلَافِ إِلَيْهِ وَالْقُعُودِ بَيْنَ يَدَيْهِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»
هذا حديث صحيح الإسناد، وقال البخاري: أبو زهير الثقفي سمع النبيَّ ﷺ واسمه معاذ. فأما أبو بكر بن أبي زهير فمن كبار التابعين، وإسناد الحديث صحيح ولم يُخرجاه. فقد ذكرنا تسعةَ أحاديث بأسانيدَ صحيحةٍ يُستَدلُّ بها على الحُجَّة بالإجماع، واستقصيتُ فيه تحرِّيًا لمذاهب الأئمة المتقدِّمين ﵃. هذه أخبار صحيحة في الأمر بتوقير العالِم عند الاختلافِ إليه والقعودِ بين يديه، ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 413 - صحيح فَصْلٌ: فِي تَوْقِيرِ الْعَالِمِ «هَذِهِ خْبَارٌ صَحِيحَةٌ فِي الْأَمْرِ بِتَوْقِيرِ الْعَالِمِ عِنْدَ الِاخْتِلَافِ إِلَيْهِ وَالْقُعُودِ بَيْنَ يَدَيْهِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»
ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد (معاذ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ نباءہ (یا نباوہ) میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم جنتیوں کو دوزخیوں سے پہچان لیا کرو گے“ یا فرمایا: ”اپنے میں سے بہتر لوگوں کو برے لوگوں سے پہچان لو گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ فرمایا: ”لوگوں کی اچھی تعریف اور بری تعریف کے ذریعے، کیونکہ تم ایک دوسرے پر (اللہ کے) گواہ ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری کے مطابق ابوزہیر (معاذ) ثقفی صحابی ہیں، اور ابوبکر بن ابی زہیر کبار تابعین میں سے ہیں۔ یہ نویں حدیث ہے جو اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 418]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، امام بخاری کے مطابق ابوزہیر (معاذ) ثقفی صحابی ہیں، اور ابوبکر بن ابی زہیر کبار تابعین میں سے ہیں۔ یہ نویں حدیث ہے جو اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 418]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 418 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر بن أبي زهير، فهو تابعي روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأمية بن صفوان - وهو ابن عبد الله بن صفوان بن أمية الجمحي - روى عنه جمع وذكره ابن حبان أيضًا في "الثقات"، وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس کی سند ابو بکر بن ابی زہیر کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو بکر بن ابی زہیر تابعی ہیں، ان سے دو راویوں نے روایت لی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح امیہ بن صفوان (امیہ بن عبد اللہ بن صفوان بن امیہ الجمحى) سے بھی ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں بھی "الثقات" میں جگہ دی ہے، جبکہ سند کے بقیہ تمام راوی "ثقہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15439) و 39/ (24009/ 64) و 45/ (27645)، وابن ماجه (4221)، وابن حبان (7384) من طرق عن نافع بن عمر الجُمحي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند میں مختلف مقامات (24/ 15439، 39/ 24009، 45/ 27645) پر، نیز امام ابن ماجہ (4221) اور امام ابن حبان (7384) نے نافع بن عمر الجمحى کے طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8549).
📌 اہم نکتہ: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (8549) پر دوبارہ آئے گی۔
ويشهد له حديث أنس عند البخاري (1367) ومسلم (949) في قصة الجنازة التي مُرَّ عليها، وفيه قال النبي ﷺ: "هذا أثنيتم عليه خيرًا فوجب له الجنة، وهذا أثنيتم عليه شرًا فوجبت له النار، أنتم شهداء الله في الأرض".
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (1367) اور مسلم (949) میں ایک جنازے کے گزرنے کے واقعے سے متعلق ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: "جس کی تم نے اچھائی کے ساتھ تعریف کی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس کی تم نے برائی بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہوگئی، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو"۔