🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. ذكر مدة الفاصلة فيما بين الأنبياء - عليهم السلام -
انبیاء علیہم السلام کے درمیان وقفے کی مدت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4217
فحدثنا أبو حفص محمد بن أحمد (1) الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن الحجّاج السامِيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهران، عن ابن عبّاس، عن النبي ﷺ، قال:"كان عمرُ آدمَ ألفَ سنةٍ". قال ابن عبّاس: وبين آدم ونوح ألفُ سنة، وبين نوح وإبراهيم ألفُ سنة، وبين إبراهيم وموسى سبعُ مئة سنة، وبين موسى وعيسى خمسُ مئة سنة، وبين عيسى ومحمد ﷺ ست مئة سنة (2) . قال الحاكم: وقد قدّمتُ الروايةَ الصحيحةَ عن رسول الله ﷺ أنه ليس بينه وبين عيسى نبيٌّ، وقد رُويَت أخبارٌ في خالد بن سِنانٍ وابنته التي دخلتْ على رسول الله ﷺ وقوله:"ابنة أخي، نبيٌّ ضيَّعه قومُه":
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا زمانہ ہے (یونہی) سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان بھی ایک ہزار سال کا زمانہ ہے جبکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان سات سو سال کا زمانہ ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان پانچ سو سال کا وقفہ ہے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو سال کا دورانیہ ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صحیح روایات گزر چکی ہیں کہ آپ کے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں تھا اور سیدنا خالد بن سنان رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات، اس کی بیٹی کے متعلق روایت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تو میرے اس نبی بھائی کی بیٹی ہے جس کو اس کی قوم نے ضائع کر دیا۔ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4217]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4217 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، ولم نقف للحاكم على شيخ بهذا الإسم، ويغلب على ظننا أنه محرَّف، عن أحمد بن أحيَد، أو عمر بن محمد، فكلاهما كناهما المصنف في كتابه هذا أبا حفص، ويرويان عن صالح بن محمد، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام اسی طرح واقع ہوا ہے، مگر حاکم کے شیوخ میں ہمیں اس نام کا کوئی شخص نہیں ملا۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ تحریف ہے، اصل نام "احمد بن احید" یا "عمر بن محمد" ہے، کیونکہ مصنف نے ان دونوں کی کنیت "ابو حفص" ذکر کی ہے اور یہ دونوں صالح بن محمد سے روایت کرتے ہیں۔
(2) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - وقد صحَّ عن ابن عبّاس في مدة ما بين آدم ونوح كما تقدم برقم (3695) و (4053)، وصحَّ مرفوعًا عن أبي أمامة كما تقدم برقم (3076) في مدة ما بين آدم ونوح، وبين نوح وإبراهيم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن زید (ابن جدعان) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیانی وقفے کے بارے میں ابن عباس سے صحیح روایت (3695 اور 4053) پر گزر چکی ہے۔ نیز ابو امامہ سے مرفوعاً صحیح روایت (3076) پر گزر چکی ہے جس میں آدم سے نوح اور نوح سے ابراہیم علیہما السلام تک کی مدت کا ذکر ہے۔
وصحَّ أيضًا في عمر آدم مرفوعًا حديثُ أبي هريرة، كما تقدم بالأرقام (215) و (216) و (3296)، إلا أنَّ فيه أنه سأل الله ﷿ أن يُعطي ولده داود بعض عمره، واستجاب اللهُ له فأعطاه، وكذلك جاء في رواية علي بن زيد عن غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: حضرت آدم علیہ السلام کی عمر کے بارے میں ابو ہریرہ کی مرفوع حدیث (215، 216، 3296) صحیح ثابت ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ انہوں نے اللہ سے سوال کیا کہ ان کی عمر کا کچھ حصہ ان کے بیٹے داؤد علیہ السلام کو دے دیا جائے، اللہ نے قبول فرمایا اور انہیں دے دیا۔ علی بن زید کی روایت میں بھی دیگر ذرائع سے یہی بات آئی ہے۔
وقد أخرج المرفوع في ذكر عمر آدم أحمدُ 4 / (2713) عن أسود بن عامر، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد، مطولًا بنحو رواية أبي هريرة، إلّا أنه جاء في في الرواية المطولة أنَّ آدم لما جحد إعطاءه لابنه داود من عمره أتم الله له الألف سنة، وأتم لداود المئة سنة.
📖 حوالہ / مصدر: آدم علیہ السلام کی عمر کے ذکر میں مرفوع روایت امام احمد نے 4/ (2713) میں اسود بن عامر کے طریق سے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ ابو ہریرہ کی روایت کی طرح مفصل نقل کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس طویل روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے داؤد کو اپنی عمر کا حصہ دینے سے انکار کر دیا (بھول کی وجہ سے)، تو اللہ نے ان (آدم) کی ایک ہزار سال کی عمر مکمل کی اور داؤد علیہ السلام کی سو سال کی عمر مکمل کر دی۔