المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. يد المعطي العليا وابدأ بمن تعول
دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور خرچ کی ابتدا اپنے زیرِ کفالت افراد سے کرو
حدیث نمبر: 4265
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا يزيد بن زياد بن أبي الجَعْد، عن جامِع بن شدّاد، عن طارق بن عبد الله المُحارِبي، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ مَرَّ بسُوق ذي المَجازِ وأنا في بيَاعةٍ لي، فمرَّ وعليه حُلّةٌ حمراءُ، فسمعتُه يقول:"يا أيها الناس، قولُوا: لا إله إلَّا الله، تُفْلِحُوا"، ورجلٌ يتبعُه يَرميه بالحجارةِ قد أدمى كَعْبَيه وهو يقول: يا أيها الناس، لا تُطيعُوا هذا، فإنه كَذَّاب، فقلتُ: مَن هذا؟ فقيل: هذا غلامٌ من بني عبد المطّلِب. فلما أظهرَ اللهُ الإسلامَ خرجْنا من الرَّبَذَة ومعنا ظَعِينةٌ لنا، حتى نزلْنا قريبًا من المدينة، فبَيْنا نحن قُعودٌ إذ أتانا رجلٌ عليه ثَوبانِ، فسلَّم علينا، فقال:"مِن أين القومُ؟" فقلنا: من الرَّبَذة، ومعنا جملٌ أحمرُ، فقال:"تَبِيعُونني الجَمَلَ؟" فقلنا: نعم، فقال:"بكم؟" فقلنا: بكذا وكذا صاعًا من تمر، قال:"أخذتُه"، وما استَقْصَى، فأخذَ بخُطام الجَمَل، فذهبَ به حتى تَوارَى في حِيطان المدينة، فقال بعضُنا لبعضٍ: تَعرفُون الرجلَ، فلم يكن منا أحدٌ يعرفُه، فلامَ القومُ بعضَهم بعضًا، فقالوا: تُعطُون جملَكُم مَن لا تَعرِفون، فقالت الظَّعِينةُ: فلا تَلاوَمُوا، فلقد رأينا وجهَ رجلٍ لا يَغدِرُ بكم، ما رأيتُ شيئًا أشبَهَ بالقمر ليلةَ البدرِ من وجْهِه، فلما كان العشيُّ أتانا رجلٌ فقال: السلامُ عليكم ورحمة الله وبركاتُه، أأنتُمُ الذين جئتُم من الرَّبَذة؟ قلنا: نعم، قال: أنا رسولُ رسولِ الله إليكم، وهو يأمرُكم أن تأكُلُوا من هذا التمر حتى تَشْبَعوا وتكتالُوا حتى تَستَوفُوا، فأكلْنا من التمر حتى شَبِعْنا، واكْتَلْنا حتى استَوفَينا، ثم قَدِمْنا المدينةَ من الغدِ، فإذا رسولُ الله ﷺ قائمٌ يخطُب الناسَ على المِنبَر، فسمعتُه يقول:"يدُ المُعطي العُلْيا، وابدَأْ بمن تَعُولُ: أمَّك وأباك، وأختَك وأخاك، وأَدْناك أَدْناك" وثَمَّ رجلٌ من الأنصار، فقال: يا رسول الله، هؤلاء بنو ثعلبة بن يَرْبُوع الذين قَتَلُوا فلانًا في الجاهلية، فخُذْ لنا بثأرِنا، فرفع رسولُ الله ﷺ يَدَيه حتى رأيتُ بَياضَ إبطَيه، فقال:"لا تَجْني أمٌّ على وَلَدٍ، لا تَجْني أمٌّ على وَلَدٍ" (1) .
هذا حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4219 - صحيح
هذا حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4219 - صحيح
سیدنا طارق بن عبداللہ الحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز بازار سے گزرتے دیکھا، اس وقت میں ایک سودا کر رہا تھا۔ آپ گزرے، آپ کے اوپر سرخ رنگ کا جبہ مبارک تھا۔ میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: اے لوگو! لا الہ الا اللّٰہ پڑھو کامیاب ہو جاؤ گے۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے پیچھے آپ کو کنکر مارتا آ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کے قدم مبارک سے خون بہہ رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! اس کی بات مت ماننا، یہ جھوٹا شخص ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر فرمایا تو ہم ربذہ سے نکلے اور ہمارے ساتھ ہماری عورتیں بھی تھیں۔ ہم نے مدینہ کے قریب آ کر پڑاؤ ڈالا۔ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس کے اوپر دو چادریں تھیں۔ اس نے ہمیں سلام کیا اور کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ربذہ سے۔ اور ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی ہے۔ اس نے کہا: تم یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے قیمت پوچھی تو ہم نے کہا: کھجور کے اتنے صاع۔ اس نے کہا: بغیر کسی بحث و تمحیص کے میں نے انہیں لے لیا۔ پھر اس نے اونٹ کی لگام پکڑی اور چلا گیا۔ حتیٰ کہ مدینہ کے باغات میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر ہم ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو۔ تو پوری قوم میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملا جو اس کو جانتا ہو۔ تو لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے آدمی کو دے دیا ہے جس کو تم جانتے نہیں ہو۔ عورت بولی: تم ایک دوسرے کو ملامت مت کرو۔ ہم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جو تم سے دھوکہ نہیں کرے گا، میں نے اس چہرے کے علاوہ اور کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو چودھویں کے چاند کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ شام کا وقت ہوا تو وہی شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تم ہی ہو جو ربذہ سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہاری طرف قاصد ہوں، آپ نے حکم دیا ہے کہ تم لوگ ان کھجوروں میں سے پیٹ بھر کر کھاؤ اور اپنی قیمت بھی پوری کر لو۔ چنانچہ ہم نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھجوریں کھائیں اور قیمت بھی پوری وصول کر لی۔ پھر اگلے دن ہم مدینہ شہر میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: دینے والا ہاتھ، اوپر والا ہے اور تو اپنی ماں، باپ، بہن، بھائیوں کی رشتہ داریوں سے قریب سے قریب تر لوگوں سے شروع کر۔ وہاں ایک انصاری آدمی بھی موجود تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا، آپ ہمیں انتقام دلوائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بلند کئے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ نے کہا: ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کر سکتی، ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کر سکتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4265]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4265 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي راوية مغازي يونس بن بكير عن ابن إسحاق - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند احمد بن عبد الجبار (العطاردی) کی وجہ سے "حسن" ہے، جو ابن اسحاق سے یونس بن بکیر کے مغازی کے راوی ہیں، اور ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه بطوله ابن حبان (6562) من طريق الفضل بن موسى، عن يزيد بن زياد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6562) میں مکمل طوالت کے ساتھ فضل بن موسیٰ کے طریق سے، یزید بن زیاد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرج منه مقالة النبي ﷺ على المنبر: النسائيُّ (2323)، وابن حبان (3341) من طريق الفضل بن موسى، عن يزيد بن زياد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس میں سے نبی کریم ﷺ کے منبر والے خطاب کے حصے کو نسائی (2323) اور ابن حبان (3341) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے یزید بن زیاد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرج منه آخره المرفوع ابن ماجه (2670) من طريق عبد الله بن نمير، والنسائي (7014): من طريق الفضل بن موسى، كلاهما عن يزيد بن زياد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کے آخری "مرفوع" حصے کو ابن ماجہ (2670) نے عبد اللہ بن نمیر کے طریق سے، اور نسائی (7014) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (نمیر اور فضل) اسے یزید بن زیاد سے روایت کرتے ہیں۔
والبِياعة، بكسر الباء وتخفيف الياء آخر الحروف: هي السِّلْعة، والظاهر أن المعنى: كنت في صدد بيع سلعةٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "البِياعة" (باء کے کسرہ اور یاء کی تخفیف کے ساتھ): اس سے مراد "سامان" (سلعۃ) ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ معنی یہ ہے: "میں سامان فروخت کرنے کے ارادے سے تھا"۔
والظعينة: المرأة، وهو في الأصل اسم للراحلة يُظعَنُ عليها، أي: يُسار، ثم أطلق على المرأة التي تركبها.
📝 نوٹ / توضیح: "الظعینۃ": اس کا مطلب "عورت" ہے۔ اصل میں یہ اس سواری کا نام تھا جس پر سفر (ظعن) کیا جاتا تھا، پھر اس کا اطلاق اس سواری پر بیٹھنے والی عورت پر ہونے لگا۔
وقوله: "بمن تَعُول" أي: بمن تَمُون وتلزمك نفقته.
📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کے فرمان "بمن تَعُول" کا مطلب ہے: وہ لوگ جن کا خرچہ تم اٹھاتے ہو اور جن کی نفقہ (روٹی کپڑا) تم پر لازم ہے۔