المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. من صلى فى قباء كان كعدل عمرة
مسجدِ قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے
حدیث نمبر: 4329
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا هَوْذة بن خليفة، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لما وَرَدَ رسول الله ﷺ المدينةَ انْجفَلَ الناسُ إليه، وقيل: قدم رسول الله ﷺ، قال: فجئتُ في الناس لأنظُر، فلما تبيَّنْتُ وجهَه عرفتُ أنَّ وجهَه ليس بوجْهِ كذَّاب، وكان أول شيءٍ سمعته يتكلّم أن قال:"يا أيُّها الناسُ، أفشوا السلام، وأطعِمُوا الطعام، وصِلوا الأرحام، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تدخُلُوا الجنة بسلامٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4283 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بھاگے اور (مجھے) بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی زیارت کے لیے چل پڑا، جب میں نے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا نہیں ہو سکتا۔ میں نے آپ کی سب سے پہلی گفتگو جو سنی وہ یہ تھی ” اے لوگو! سلام عام کرو، (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4329]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4329 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهنا إسنادٌ قوي من أجل هَوذة بن خليفة، وهو متابع. وقد سمع زرارة ابن أوفى من عبد الله بن سلام كما تدل عليه ترجمته في "التاريخ الكبير" للبخاري 3/ 438 - 439، وجزم به مسلم في "الكنى" (931).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند "ہوذہ بن خلیفہ" کی وجہ سے قوی ہے، اور وہ متابع ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زرارہ بن اوفیٰ نے عبداللہ بن سلام سے سماع کیا ہے، جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الکبیر" (3/ 438-439) میں ان کے ترجمے سے ثابت ہوتا ہے، اور مسلم نے "الکنیٰ" (931) میں اس پر جزم کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39 / (23784)، وابن ماجه (1334)، والترمذي (2485) من طريق محمد بن جعفر، وابن ماجه (1334)، والترمذي (2485) من طريق محمد بن إبراهيم بن أبي عدي، وعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، وابن ماجه (3251) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، أربعتهم عن عوف بن أبي جميلة، به. وصرّح زرارة في رواية أبي أسامة بسماعه من عبد الله بن سلام.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23784)، ابن ماجہ (1334) اور ترمذی (2485) نے محمد بن جعفر کے طریق سے؛ ابن ماجہ (1334) اور ترمذی (2485) نے محمد بن ابراہیم بن ابی عدی اور عبدالوہاب بن عبدالمجید الثقفی کے طریق سے؛ اور ابن ماجہ (3251) نے ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چاروں اسے عوف بن ابی جمیلہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ کی روایت میں زرارہ نے عبداللہ بن سلام سے اپنے سماع کی صراحت کی ہے۔
وسيأتي برقم (7464) من طريق يحيى بن سعيد القطان وعبد الوهاب بن عطاء عن عوف.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ روایت آگے (رقم 7464) پر یحییٰ بن سعید القطان اور عبدالوہاب بن عطاء عن عوف کے طریق سے آئے گی۔