المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. ذِكْرُ مُبَارَزَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سے مقابلہ
حدیث نمبر: 4373
حدثنا لُؤلؤ بن عبد الله المُقتَدِري، في قصر الخليفة ببغداد، حدثنا أبو الطيب أحمد بن إبراهيم بن عبد الوهاب المصري بدمشق، حدثنا أحمد بن عيسى الخَشّاب بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَمُبارزةُ عليِّ بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدٍّ يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى يوم القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خندق کے دن علی بن ابی طالب کا (کافر پہلوان) عمرو بن عبد ود کے مدمقابل نکل کر اس سے مقابلہ کرنا میری امت کے قیامت تک کے تمام (نفلی) اعمال سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث: «إسناده تالفٌ، وذلك من أجل أحمد بن عيسى الخشاب - وهو ابن زيد - فهو متروك وكذبه مسلمة وابن طاهر، وقد حكم الذهبي في "تلخيصه" على هذا الخبر بأنه مُفترى، فقال: قبَّح الله رافضيًا افتراه، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 13/ 331: هذا خبر موضوع.» [ترقيم الرساله 4373] [ترقيم الشركة 4350] [ترقيم العلميه 4327]
الحكم على الحديث: إسناده تالفٌ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4373 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالفٌ، وذلك من أجل أحمد بن عيسى الخشاب - وهو ابن زيد - فهو متروك وكذبه مسلمة وابن طاهر، وقد حكم الذهبي في "تلخيصه" على هذا الخبر بأنه مُفترى، فقال: قبَّح الله رافضيًا افتراه، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 13/ 331: هذا خبر موضوع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (بالکل برباد/ تباہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "احمد بن عیسیٰ الخشاب" (جو کہ احمد بن عیسیٰ بن زید ہے) کا ہونا ہے، وہ "متروک" ہے، مسلمہ اور ابن طاهر نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حافظ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اس خبر پر حکم لگایا ہے کہ یہ "من گھڑت" (مفتریٰ) ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: "اللہ بُرا کرے اس رافضی کا جس نے اسے گھڑا ہے۔" حافظ ابن حجر ؒ نے "اتحاف المہرۃ" (13/ 331) میں فرمایا: "یہ خبر موضوع (من گھڑت) ہے۔"
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4373 in Urdu