المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. شهادة جعفر وحزن النبى صلى الله عليه وآله وسلم عليه
حضرت جعفرؓ کی شہادت اور نبی کریم ﷺ کا ان پر غمگین ہونا
حدیث نمبر: 4399
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدَّثنا زكريا بن عَديّ، حدَّثنا عيسى بن يونس، عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، قال: لما اشتدَّ جَزَعُ أصحابِ رسول الله ﷺ على مَن قُتل يومَ مؤتةَ، قال رسولُ الله ﷺ:"ليُدرِكَنَّ الدجالُ قومًا مثلَكم أو خَيرًا منكم - ثلاث مرات - ولن يُخزيَ اللهُ أُمَّةً أنا أولُها وعيسى ابن مَريم آخرُها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4351 - ذا مرسل وهو خبر منكر
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4351 - ذا مرسل وهو خبر منكر
عبدالرحمن بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا غم ان لوگوں کی شہادت پر بہت بڑھ گیا جو غزوہ مؤتہ میں شہید ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کا سامنا ایک ایسی قوم کرے گی جو تم جیسی ہوگی یا تم سے بھی بہتر ہوگی“، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا اور پھر فرمایا: ”اللہ اس امت کو کبھی رسوا نہیں کرے گا جس کے اول میں میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں اور جس کے آخر میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4399]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4399]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على عيسى بن يونس - وهو ابن أبي إسحاق السَّبيعي - في ذكر جُبَير بن نفير في إسناده، فرواه عنه زكريا بن عدي كما في رواية المصنف هنا فذكره، وخالفه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 5/ 298 و 14/ 517، وعلي بن سعيد بن مسروق ...» [ترقيم الرساله 4399] [ترقيم الشركة 4376] [ترقيم العلميه 4351]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4399 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على عيسى بن يونس - وهو ابن أبي إسحاق السَّبيعي - في ذكر جُبَير بن نفير في إسناده، فرواه عنه زكريا بن عدي كما في رواية المصنف هنا فذكره، وخالفه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 5/ 298 و 14/ 517، وعلي بن سعيد بن مسروق الكندي عند الحكيم الترمذي في "نوادر الأصول" (706)، فروياه عن عيسى بن يونس، فلم يذكُرا جُبَير بن نُفير، وهو الأشبه بالصواب، على أنَّ جُبَير بن نفير وابنه عبد الرحمن تابعيان، فالخبر مرسل على أي حالٍ، ومع ذلك فقد حسَّن الحافظُ إسنادَه في "الفتح" 11/ 12 بعد أن ذكر رواية ابن أبي شيبة!! وقال الذهبي في "تلخيصه" ذا مرسلٌ، وهو خبر منكر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں عیسیٰ بن یونس (ابن ابی اسحاق السبیعی) پر اختلاف واقع ہوا ہے۔ زکریا بن عدی نے (مصنف کی روایت کی طرح) اس میں "جبیر بن نفیر" کا ذکر کیا ہے، جبکہ ابن ابی شیبہ (5/ 298، 14/ 517) اور علی بن سعید الکندی (نوادر الاصول 706) نے ان کی مخالفت کی ہے اور عیسیٰ بن یونس سے روایت کرتے ہوئے جبیر کا ذکر نہیں کیا، اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ویسے بھی جبیر بن نفیر اور ان کے بیٹے عبدالرحمن دونوں "تابعی" ہیں، لہٰذا یہ خبر ہر حال میں "مرسل" ہے۔ اس کے باوجود حافظ ابن حجر نے "الفتح" (11/ 12) میں ابن ابی شیبہ کی روایت ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو "حسن" کہا ہے!! جبکہ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: "یہ مرسل ہے اور منکر خبر ہے۔"
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4399 in Urdu