🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حديث عمرو بن عبسة - رضى الله عنه -
حضرت عمرو بن عبسہؓ کا اسلام لانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4467
حدثنا عبد الله بن جعفر بن دَرستوَيهِ الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو تَوْبة الربيع بن نافع الحَلَبي، حدثنا محمد بن مُهاجر، عن العبّاس بن سالم، عن أبي سلّام، عن أبي أُمامة عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ في أولِ ما بُعِثَ وهو بمكة، وهو حينئذٍ مُستخْفٍ فقلت: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ" قلت: وما النبيُّ؟ قال:"رسولُ الله قلت: آلله أرسلَكَ؟ قال:"نعم" قلت: بما أرسلَكَ؟ قال:"أن تعبدَ الله، وتَكسِرَ الأوثانَ، وتَصِل الأرحامَ" قلت: نِعمَ ما أرسلَكَ به، فمن تَبِعَك على هذا؟ قال:"عبدٌ وحُرٌّ" يعني أبا بكر وبلالًا. وكان عَمرو يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبْعُ الإسلام، قال: فأسلمتُ، قلت: أَتْبعُك يا رسول الله، قال:"لا، ولكن الْحَقْ بقومِك، فإذا أُخبِرتَ أني قد خرجتُ فاتْبَعني" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا سلّام على روايته ضَمْرةُ بن حبيب وأبو طلحة الراسِبيّ (1) وشَدّادُ بن عبد الله أبو عمّار. أما حديث ضَمْرة وأبي طلحة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4418 - صحيح
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اوائل میں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ان دنوں آپ پوشیدہ تبلیغ کرتے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کا رسول۔ میں نے کہا: آپ کا پیغام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، بتوں کی عبادت کو چھوڑ دو، صلہ رحمی کرو۔ میں نے کہا: آپ کا پیغام تو بہت اچھا ہے۔ اس بات پر ایمان کون کون لایا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میرا خیال ہے کہ اسلام لانے والا چوتھا آدمی میں ہوں، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا، اور میں نے عرض کی: کیا میں آپ علیہ السلام کی سنگت میں رہ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ (ابھی نہیں) بلکہ تم فی الحال اپنے قبیلے میں چلے جاؤ۔ اور جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر ملے تم میرے ساتھ رہنے کے لئے چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابوامامہ سے روایت کرنے میں ضمرہ بن حبیب، ابوطلحہ الراسبی اور ابوعمار شداد بن عبداللہ نے ابواسلام کی متابعت کی ہے۔ ضمرہ اور ابوطلحہ کی روایت کردہ حدیث (درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4467]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح، وهو قطعة من الحديث المتقدم برقم (593) بالإسناد نفسه. وانظر تالييه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ اس حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو پہلے (نمبر 593) پر اسی سند کے ساتھ گزر چکی ہے۔ اور اس کے بعد والی دو احادیث دیکھیں۔
(1) كذا جاء في بعض النسخ، وفي بعضها الرسبي، مع أنَّ أبا طلحة المذكور - وهو نُعيم بن زياد الشامي - يُنسب أنماريًا لا راسِبيًا، وفي الرواة رجل اسمه شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي، وهو بصري مشهور، فالظاهر أن ما وقع هنا سبق قلم بسبب اشتراكهما في الكنية، ولعله لأجل ذلك ضبَّب فوقها في (ز).
🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض نسخوں میں یوں ہی (الراسبی) آیا ہے، اور بعض میں ’’الرسبی‘‘۔ حالانکہ مذکورہ ابو طلحہ (نعیم بن زیاد الشامی) کی نسبت ’’انماری‘‘ ہے نہ کہ ’’راسبی‘‘۔ راویوں میں ایک شخص شداد بن سعید ابو طلحہ الراسبی ہے جو مشہور بصری راوی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ یہاں جو کچھ لکھا گیا وہ کنیت میں اشتراک کی وجہ سے قلم کی سبقت (غلطی) ہے، شاید اسی لیے نسخہ (ز) میں اس پر ’’ضبّہ‘‘ (نشان) لگایا گیا ہے۔