🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. فَضِيلَةُ الشَّيْخَيْنِ مِنْ لِسَانِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
حضرت علیؓ کی زبان سے شیخین (ابو بکر و عمر) کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا يوسف بن عَدي ونعيم بن حماد، قالا: حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرني عُمر بن سعيد بن أبي حُسين القرشي، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: سمعت ابن عبّاس يقولُ: لما وُضِع عمرُ بن الخطاب على سَريره، فتَكنَّفه الناسُ يَدْعُون له وأنا فيهم، فجاء عليُّ بن أبي طالب فقال: إن كنتُ لأظنُّ أن يجعلَكَ الله تعالى مع صاحبَيك، وذاك أني كنتُ أُكثرُ أن أسمعَ رسولَ الله ﷺ يقول: ذهبتُ أنا وأبو بكر وعمر، ودخلتُ أنا وأبو بكر وعمر، وخرجتُ أنا وأبو بكر وعمر، وإني كنتُ أظنُّ أن يَجعلَكَ الله معهما (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4427 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جسدِ مبارک ان کے بستر پر رکھا گیا تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے لیے دعا کرنے لگے، میں بھی ان میں موجود تھا، تب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: میرا یہ گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر) کے ساتھ ہی رکھے گا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا: میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں، ابوبکر اور عمر نکلے، اور یقیناً میرا یہی خیال تھا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح من جهة يوسف بن عدي. ابنُ أبي مُليكة: هو عبد الله بن عُبيد الله.» [ترقيم الرساله 4476] [ترقيم الشركة 4453] [ترقيم العلميه 4427]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4476 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح من جهة يوسف بن عدي. ابنُ أبي مُليكة: هو عبد الله بن عُبيد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یوسف بن عدی کی جہت سے ’’صحیح‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی ملیکہ: یہ عبداللہ بن عبیداللہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 2 / (898)، والبخاري (3685)، ومسلم (2389)، وابن ماجه (98)، والنسائي (8061) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 2/ (898)، بخاری (3685)، مسلم (2389)، ابن ماجہ (98)، نسائی (8061) نے عبداللہ بن مبارک سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس حاکم کا اسے لانا ان کا بھولپن ہے۔
وأخرجه البخاري (3677)، ومسلم (2389) من طريق عيسى بن يونس السَّبيعي، عن عمر بن سعيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3677) اور مسلم (2389) نے عیسیٰ بن یونس السبیعی > عمر بن سعید کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4476 in Urdu