🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. رؤيا نزول الميزان ووزن الخلفاء .
خواب میں میزان کے نازل ہونے اور خلفاء کے تولے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4486
أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمْراني، عن الحسن، عن أبي بكرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن رأى مِنكُم رؤيا؟" فقال رجلٌ: أنا رأيتُ كأنَّ مِيزانًا نَزَلَ من السماء، فوُزِنتَ أنتَ وأبو بكر فرجَحْتَ أنتَ بأبي بكر، ووُزِنَ عمر وأبو بكر فرجَحَ أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فرجَحَ عُمر، ثم رُفع الميزانُ، فرأينا الكراهيةَ في وجْهِ رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سعيد بن جُمْهان عن سَفينة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4437 - أشعث بن عبد الملك هذا ثقة لكن ما احتجا به
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ کوئی ترازو آسمان سے اترا ہے، اس میں آپ نے اپنا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا، تو آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزنی رہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ وزنی رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو عمر رضی اللہ عنہ وزنی رہے۔ پھر ترازو اوپر اٹھا لیا گیا۔ تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ (درج ذیل) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4486]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4486 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، والحسن - وهو ابن أبي الحسن البصري - سماعُه من أبي بكرة صحيح، احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عنه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: الحسن (ابن ابی الحسن البصری) کا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع صحیح ہے، اور بخاری نے ان کی احادیث سے استدلال (احتجاج) کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (4634)، والترمذي (2287)، والنسائي (8080) من طريقين عن محمد بن عبد الله الأنصاري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: هذا حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداود (4634)، ترمذی (2287)، نسائی (8080) نے محمد بن عبداللہ الانصاری سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ ترمذی نے کہا: یہ حدیث ’’حسن‘‘ ہے۔
وسيتكرر برقم (8389).
📝 نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 8389) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه أحمد 34/ (20445)، وأبو داود (4635) من طريق حماد بن سلمة، عن علي بن زيد بن جُدعان، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه. وزاد فيه فقال - أي النبي ﷺ: "خلافة نبوة، ثم يؤتي الله المُلكَ من يشاء". وعلي بن زيد ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 34/ (20445) اور ابوداود (4635) نے حماد بن سلمہ > علی بن زید بن جدعان > عبدالرحمن بن ابی بکرہ > والد کے طریق سے تخریج کیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں اضافہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’خلافت نبوت کی (طرز پر) ہوگی، پھر اللہ جسے چاہے گا بادشاہت دے گا۔‘‘ علی بن زید ضعیف ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اور اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔