المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. ومن مناقب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب - رضى الله عنه -
امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کے مناقب — حضرت عمرؓ کے نسب کا بیان
حدیث نمبر: 4527
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو أسامة عبدُ الله بن أبي أسامة الحَلَبي، حدثنا حجّاج بن أبي مَنيع، عن جدِّه - وهو عُبيد الله بن أبي زياد الرُّصَافي - عن الزُّهْري. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مصعب بن عبد الله الزُّبيري؛ قالا: عُمر بن الخطاب بن نُفَيل بن عبد العُزّى بن رِياح بن عبد الله بن قُرْط بن رزاح بن عَدِيّ بن كعب بن لُؤَي بن غالب بن فِهْر - لفظًا واحدًا - قالا: وأمُّه حَنْتَمة بنت هاشم بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مَخزُوم، وأمُّها الشِّفاء بنت عبد قيس بن عَدي بن سعد بن سَهم يُكنى أبا حفصٍ، استُخِلف يوم تُوفِّي أبو بكر ﵄، وهو يوم الثلاثاء لثمانٍ بقين من جُمادى الآخِرة (1) .
زہری اور مصعب بن عبداللہ زبیری دونوں (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کرتے ہوئے) کہتے ہیں: ” عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن فہر “ اور ان کی والدہ کا نسب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:” حنتمہ بنت ہاشم بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم “ اور آپ کی نانی ” شفاء بنت عبد قیس بن عدی بن سعد بن تیم تھیں۔ آپ کی کنیت ” ابوحفص “ تھی۔ جس دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اسی دن آپ کو خلیفہ بنا لیا گیا اور یہ منگل کا دن تھا اور جمادی الآخر ختم ہونے میں 8 دن رہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4527]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4527 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد إلى الزهري.
⚖️ درجۂ حدیث: زہری تک اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (49)، وعنه أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (128) عن أبي أسامة الحلبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (49) میں اور ان سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (128) میں ابو اسامہ الحلبی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرج نسب عمر بن الخطاب وحده يعقوبُ بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 3/ 164، ومن طريقه ابن عساكر 44/ 53، وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (96) عن حسين بن الحسن المروزي، كلاهما (يعقوب بن سفيان وحسين المَروَزي) عن حجاج بن أبي منيع، به.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عمر بن خطاب کا نسب تنہا (علیحدہ طور پر) یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (3/ 164) میں نکالا ہے (اور ان کے طریق سے ابن عساکر: 44/ 53 نے)، اور ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (96) میں حسین بن حسن المروزی سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (یعقوب اور حسین) اسے حجاج بن ابی منیع سے روایت کرتے ہیں۔
وكذلك سرد محمد بن إسحاق نسب عمر ونسب أمه وجدته لأمه، عند الطبري في "تاريخه" 4/ 195، والطبراني في "الكبير" (49)، وعنه أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (130)، وعند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 11.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح محمد بن اسحاق نے بھی حضرت عمر، ان کی والدہ اور ان کی نانی کا نسب ذکر کیا ہے، جسے طبری نے "تاریخ" (4/ 195) میں، طبرانی نے "الکبیر" (49) میں (اور ان سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" 130 میں)، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (44/ 11) میں نقل کیا ہے۔