🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. ذكر بعض شجاعة عمر - رضى الله عنه - وتسبيحات ملائكة السماء الدنيا والسماء الثانية .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بعض شجاعتوں کا بیان اور آسمانِ دنیا اور دوسرے آسمان کے فرشتوں کی تسبیحات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4553
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد، أنَّ سالم بن عبد الله بن عمر حدَّثه عن عبد الله بن عمر قال: ما سمعتُ عمر بن الخطاب يقولُ لشيءٍ قطُّ: إني لأظنُّ كذا وكذا، إلَّا كان كما يَظُنُّ، بيْنا عمرُ بن الخطاب جالسٌ إذ مرَّ به رجلٌ جميلٌ، فقال له: أخطأ ظَنِّي أوْ إنك على دِينِك في الجاهلية، ولقد (2) كنت كاهنَهم، قال: ما رأيتُ كاليوم استُقبِلَ به رجلٌ مسلمٌ، قال عمر: فإني أعزِمُ عليكَ ألا أخبرتَني، قال: كنتُ كاهنَهم في الجاهلية، قال: فماذا أعجَبُ ما جاء بكَ؛ فذكر حديثًا طويلًا ليس له سنَد (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4503 - الحديث في صحيح البخاري بهذا الإسناد بطوله
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا گمان یہ ہے تو واقعی اسی طرح ہوتا، جیسا کہ آپ اپنا گمان بتاتے تھے۔ یونہی ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک حسین و جمیل شخص گزرا۔ آپ نے اس کو فرمایا: میرے سمجھنے میں غلطی ہے یا تو اپنے جاہلیت والے دن پر ہے؟ تو ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کہ ایک مسلمان آدمی سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جو تم پر ارادہ رکھتا ہوں، تم اس کے بارے میں مجھے بتاؤ، اس نے کہا: میں جاہلیت میں ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: کتنا اچھا ہے جو آپ لائے ہیں۔ پھر اس کے بعد لمبی حدیث بیان کی۔ اس کی سند نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4553]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4553 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ص) و (م): وقد.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں ”وقد“ ہے۔
(3) إسناده صحيح. عمر بن محمد: هو ابن زيد بن عبد الله بن عمر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عمر بن محمد سے مراد ابن زید بن عبد اللہ بن عمر ہیں۔
وأخرجه البخاري (3866) عن يحيى بن سليمان، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وذكر القصة التي أشار إليها المصنّف، إلّا أنه قال في روايته: أو لقد كان كاهنَهم. على التردُّد. وقال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 11/ 338: حاصله أنَّ عمر ظنَّ شيئًا متردّدًا بين شيئين، أحدهما يتردد بين شيئين، كأنه قال: هذا الظن إما خطأ وإما صواب، فإن كان صوابًا فهذا الآن إما باق على كفره وإما كان كاهنًا، وقد أظهر الحالُ القسم الأخير، وكأنه ظهرت له من صفة مشيِه أو غير ذلك قرينةٌ أثرت له ذلك الظنّ، فالله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (رقم: 3866) یحییٰ بن سلیمان سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور وہ قصہ ذکر کیا جس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا ہے، سوائے اس کے کہ بخاری کی روایت میں شک کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: ”أو لقد كان كاهنَهم“ (یا تو وہ ان کا کاہن رہا ہے)۔ 📝 نوٹ / توضیح: حافظ ابن حجر نے ”فتح الباری“ (11/ 338) میں فرمایا: اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر نے ایک ایسی چیز کا گمان کیا جو دو چیزوں کے درمیان متردد تھی... گویا انہوں نے کہا: یہ گمان یا تو غلط ہے یا درست، اگر درست ہے تو یہ شخص یا تو ابھی تک اپنے کفر پر باقی ہے یا یہ (جاہلیت میں) کاہن تھا۔ اور موجودہ صورتحال نے آخری قسم (کاہن ہونے) کو ظاہر کر دیا۔ لگتا ہے کہ اس شخص کی چال ڈھال یا کسی اور چیز سے کوئی ایسی قرینہ ظاہر ہوئی جس نے ان میں یہ گمان پیدا کیا۔ واللہ اعلم۔