🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. الأشعار فى رثاء عمر - رضى الله عنه - .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہے گئے مرثیہ اشعار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد القطان إملاءً، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن مالك (1) بن دينار، قال: سُمِع صوتٌ بجبل تَبَالةَ حين قُتل عمر بن الخطاب: لِيَبكِ على الإسلام مَن كان باكيًا … فقد أوشَكُوا هَلْكى وما قَدُمَ العَهدُ وأدبَرتِ الدنيا وأدبَرَ خَيرُها … وقد مَلَّها مَن كان يُوقِنُ بالوَعِدِ (2) فنظروا فلم يروا شيئًا (1) .
مالک بن دینار فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو جبل تبالہ کی جانب سے یہ آواز سنائی دی۔ حاضر ہے اسلام کی خدمت میں جو کوئی رونے والا ہے، بے شک قریب ہے میری ہلاکت اور زمانہ قریب آ گیا ہے۔ اور دنیا پیچھے پلٹ گئی ہے اور اس کی بھلائی بھی لوٹ گئی ہے اور وہ ملال میں ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ لوگوں نے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4574]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4574 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في نسخنا الخطّية: جعفر بن سليمان ومالك بن دينار، بالعطف، وهو خطأ صوَّبناه من "تلخيص المستدرك" للذهبي، وفي "إتحاف المهرة" للحافظ (5068).
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں ”جعفر بن سلیمان اور مالک بن دینار“ عطف کے ساتھ لکھا تھا، جو کہ غلطی ہے، ہم نے ذہبی کی ”تلخیص المستدرک“ اور حافظ ابن حجر کی ”اتحاف المہرہ“ (5068) سے اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(2) كذا جاءت حركةُ الرَّويِّ في الرواية مختلفةً عن حركة الرَّويّ الذي في البيت السابق، ويُسمَّى مثل هذا إقواءً.
📝 نوٹ / توضیح: روایت میں حرفِ روی (شعر کا آخری حرف) کی حرکت پچھلے شعر کی حرکت سے مختلف آئی ہے، اور (فنِ عروض میں) اسے ”اِقواء“ کہا جاتا ہے۔
(1) رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ وربما يكون مُعضَلًا، فإنَّ مالك بن دينار لم يدرك زمن عمر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، لیکن یہ مرسل ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ معضل ہو، کیونکہ مالک بن دینار نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 480 من طريق حماد بن واقد، عن مالك بن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے ”تاریخ دمشق“ (44/ 480) میں حماد بن واقد کے طریق سے، انہوں نے مالک بن دینار سے روایت کیا ہے۔
تَبالة: بلدة قريبة من بِيشة جنوب الجزيرة العربية.
📝 نوٹ / توضیح: ”تَبالہ“: جزیرہ نما عرب کے جنوب میں ”بیشہ“ کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔