المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے
حدیث نمبر: 4630
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثني أَبي ومحمد بن نُعيم، قالا: حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعي، عن يزيد الرِّشْك، عن مُطرِّف، عن عِمران بن حُصين قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ سريةً واستعملَ عليهم عليَّ بن أبي طالب، فمضى عليٌّ في السَّرِيّة فأصابَ جاريةً، فأنكَروا ذلك عليه، فتعاقدَ أربعةٌ من أصحاب رسول الله ﷺ إذا لَقِينا رسولَ الله ﷺ، أخبرناه بما صنعَ عليٌّ، قال: عِمران: وكان المسلمون إذا قدموا من سفر بدؤوا برسولِ الله ﷺ، فنظروا إليه وسلَّموا عليه، ثم ينصرفون إلى رِحالِهم، فلمَّا قَدِمَتِ السريّةُ سلَّمُوا على رسول الله ﷺ فقام أحدُ الأربعة، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ عليًّا صنعَ كذا وكذا، فأعرض عنه، ثم قام الثاني، فقال مثلَ ذلك، فأعرض عنه، ثم قام الثالث فقال مثلَ ذلك، فأعرض عنه، ثم قام الرابع، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ عليًّا صنعَ كذا وكذا، فأقبلَ عليه رسول الله ﷺ و الغضبُ في وجهه، فقال:"ما تُريدون من عليٍّ، إنَّ عليًّا مني وأنا منه، ووليُّ كلِّ مُؤمنٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر إسلام أمير المؤمنين عليّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4579 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر إسلام أمير المؤمنين عليّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4579 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مہم پر روانہ ہوئے اور انہوں نے (مالِ غنیمت میں سے) ایک لونڈی حاصل کی، جس پر صحابہ نے ان سے اختلاف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ نے باہم یہ عہد کیا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں گے تو آپ کو اس بارے میں بتائیں گے جو علی رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ سفر سے واپس آتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے پھر اپنے ٹھکانوں کو جاتے، چنانچہ جب یہ لشکر واپس آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر ان چاروں میں سے پہلا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ علی نے ایسا اور ایسا کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی اعراض فرمایا، پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی وہی بات کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی اعراض فرمایا، پھر جب چوتھا شخص کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی بات کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے بارے میں کیا چاہتے ہو؟ «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَوَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ ہر مومن کا ولی (سرپرست و دوست) ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4630]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4630]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان، فهو صدوق لا بأس به، وقد صحَّح هذا الخبرَ الذهبيُّ في جزء "من كنت مولاه فعليٌّ مولاه" (104) حيث وافق الحاكم على تصحيحه قائلًا: وصدق الحاكم. قلنا: وحسَّنه الترمذي وصحَّحه ابن حبان. يزيد الرِّشك: هو ابن أبي يزيد، ومُطرِّف: هو ابن عبد الله ...» [ترقيم الرساله 4630] [ترقيم الشركة 4606] [ترقيم العلميه 4579]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4630 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان، فهو صدوق لا بأس به، وقد صحَّح هذا الخبرَ الذهبيُّ في جزء "من كنت مولاه فعليٌّ مولاه" (104) حيث وافق الحاكم على تصحيحه قائلًا: وصدق الحاكم. قلنا: وحسَّنه الترمذي وصحَّحه ابن حبان. يزيد الرِّشك: هو ابن أبي يزيد، ومُطرِّف: هو ابن عبد الله بن الشِّخِّير.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند جعفر بن سلیمان کی وجہ سے ”جید“ ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں حرج نہیں۔ ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے (جزء: 104) اور حاکم کی تصدیق کی ہے۔ ہم کہتے ہیں: ترمذی نے حسن اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یزید الرشک سے مراد ابن ابی یزید اور مطرف سے مراد ابن عبد اللہ بن الشخیر ہیں۔
وأخرجه أحمد 33 / (19928)، والترمذي (3712)، والنسائي (8090) و (8399) و (8420)، وابن حبان (6929) من طرق عن جعفر بن سليمان الضُّبَعي بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (33/ 19928)، ترمذی (3712)، نسائی (8090 وغیرہ) اور ابن حبان (6929) نے متعدد طرق سے جعفر بن سلیمان الضبعی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للقصة حديث بريدة الأسلمي الذي قبله. وللمرفوع منه رواية الأجلح بن عبد الله الكِنْدي، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، عند أحمد 38/ (23012) والنسائي (8421).
🧩 متابعات و شواہد: اس قصے کی تائید بریدہ الاسلمی کی پچھلی حدیث کرتی ہے۔ اور مرفوع حصے کے لیے اجلح بن عبد اللہ الکندی کی روایت (عبد اللہ بن بریدہ عن ابیہ) احمد (38/ 23012) اور نسائی (8421) کے ہاں موجود ہے۔
والجارية التي أصابها عليٌّ إنما جاز له أخذها لأنها من نصيبه في الخُمس، كما تدل عليه روايةٌ لحديث بُريدة عند أحمد 38/ (23036)، والبخاري (4350) بلفظ: "لا تُبغضه، فإنَّ له في الخُمس أكثر من ذلك".
📌 اہم نکتہ: جو لونڈی علی نے لی تھی وہ ان کے لیے لینا جائز تھا کیونکہ وہ خمس میں سے ان کا حصہ تھی، جیسا کہ احمد (38/ 23036) اور بخاری (4350) میں بریدہ کی حدیث دلالت کرتی ہے: ”اس سے بغض نہ رکھو، کیونکہ خمس میں اس کا حق اس سے زیادہ ہے۔“
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4630 in Urdu