المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. من كنت مولاه فعلي مولاه
جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے
حدیث نمبر: 4629
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نصر. وأخبرنا محمد بن علي الشيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري. وأخبرنا محمد بن عبد الله العُمري، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى وأحمد بن يوسف، قالوا: حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن أبي غَنِيّة، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن بُريدة الأسلمي، قال: غزوتُ مع عليٍّ إلى اليمن، فرأيتُ منه جَفْوةً، فقدمتُ على رسول الله ﷺ، فذكرتُ عليًّا فتنقَّصْتُه، فرأيت وجهَ رسولِ الله ﷺ، يَتغيّر، فقال:"يا بُريدةُ، ألستُ أَولى بالمؤمنين من أنفُسهم؟" قلت: بلى يا رسول الله، فقال:"من كنت مَولاهُ، فعليٌّ مَولاهُ" وذكر الحديثَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یمن کی جانب ایک غزوہ میں شریک تھا۔ میں نے آپ کی جانب سے کچھ بدسلوکی محسوس کی۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے بھی زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں؟ تو آپ نے فرمایا: جس کا میں ” مولیٰ “ ہوں، علی بھی اس کا ” مولیٰ “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4629]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4629 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكين، وابن أبي غَنيّة: هو عبد الملك بن حميد الخُزاعي، والحكم: هو ابن عُتيبة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین، ابن ابی غنیہ سے عبد الملک بن حمید الخزاعی اور الحکم سے ابن عتیبہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (22945)، والنسائي (8089) و (8413) من طريق أبي نُعيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 22945) اور نسائی (8089، 8413) نے ابو نعیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم بنحوه برقم (2621) و (2622) من طريق عبد الله بن بُريدة عن أبيه.
📝 نوٹ / توضیح: یہ (2621، 2622) عبد اللہ بن بریدہ عن ابیہ کے طریق سے اسی طرح گزر چکا ہے۔