المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
86. قال النبى من سب عليا فقد سبني
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی
حدیث نمبر: 4666
حدَّثناهُ أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا جَندَل بن والِق، حدثنا بُكير بن عثمان، قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت أبا عبد الله الجَدَلي يقول: حَجَجتُ وأنا غلامٌ فمررتُ بالمدينة، وإذا الناس عُنُقٌ واحد، فاتّبعتُهم فدخَلُوا على أم سلمة زوج النبي ﷺ، فسمعتُها تقول: يا شَبَث بنَ رِبْعيّ، فأجابها رجلٌ جِلْفٌ جافٍ: لبَّيكِ يا أُمّتاه، قالت: يُسَبُّ رسولُ الله ﷺ في ناديكم؟! قال: وأنّى ذلك؟! قالت: فعليُّ بن أبي طالب؟ قال: إنا لنَقولُ أشياءَ نريدُ عَرَضَ الدنيا، قالت: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من سَبَّ عليًا فقد سَبَّني، ومن سَبَّني فقد سبَّ الله تعالى" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4616 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوعبداللہ البجلی فرماتے ہیں: میں کم سنی میں حج کرنے گیا۔ میں مدینہ منورہ سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ اکٹھے کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ یہ لوگ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے شبیب بن ربعی! تو ایک احمق اور بدمزاج آدمی نے جواباً کہا: لبیک اے اماں جان۔ آپ نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری مجلسوں میں گالی گلوچ کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ (کو لوگ کیوں گالیاں دیتے ہیں؟) اس نے کہا: دنیاوی مفادات کی خاطر۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو گالی دی، اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4666]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4666 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بكير بن عثمان روى عنه واحد أو اثنان، وقال عنه محمد بن بشر العبدي في "سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة" (56): لم يكن بالمحمود في قومه. قلنا: ولم يؤثر توثيقه عن أحدٍ.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ بکیر بن عثمان سے ایک یا دو راویوں نے روایت کی ہے۔ محمد بن بشر العبدی نے کہا: وہ اپنی قوم میں پسندیدہ نہیں تھا۔ ہم کہتے ہیں: کسی سے اس کی توثیق مروی نہیں۔
وقد رواه علي بن مُسهر عند علي بن محمد الحِمْيري في "جزئه" (26)، ومن طريقه ابن عساكر 42/ 533 عن أبي إسحاق السبيعي، غير أنه لم يذكر في روايته أبا عبد الله الجَدَلي، وجعل القصة لأبي إسحاق نفسه أنه هو الذي حجَّ وهو غلام، وسمع أم سلمة تقول ما تقول لشَبَث بن ربعي، إلّا أنَّ علي بن مسهر لم يسمع من أبي إسحاق، فروايته عنه منقطعة فلا تصح، ولا يصح لأبي إسحاق لقاء بأم سلمة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن مسہر نے اسے علی بن محمد الحمیری (26) اور ابن عساکر (42/ 533) کے ہاں ابو اسحاق السبیعی سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابو عبد اللہ الجدلی کا ذکر نہیں کیا، اور قصہ خود ابو اسحاق کا بنا دیا کہ انہوں نے بچپن میں حج کیا اور ام سلمہ کو سنا۔ لیکن علی بن مسہر کا ابو اسحاق سے سماع نہیں، سو روایت منقطع ہے۔ اور ابو اسحاق کی ام سلمہ سے ملاقات ثابت نہیں۔
قوله: "إذا الناسُ عُنُقٌ واحد" أي: يسيرون جميعًا.
📝 نوٹ / توضیح: قول: ”إذا الناسُ عُنُقٌ واحد“ یعنی: وہ سب اکٹھے چل رہے تھے۔