🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. قال على يهلك فى محب مطرئ ومبغض مفتر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، حد سے بڑھ کر محبت کرنے والا اور بہتان باندھنے والا دشمن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4672
حدثني أبو قُتَيبة سَلْم بن الفضل الأدَمي بمكة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عمِّي أبو بكر، حدثنا علي بن ثابت الدَّهّان، حدثنا الحكم بن عبد الملك، عن الحارث بن حَصِيرة، عن أبي صادق، عن رَبيعة بن ناجِذٍ، عن علي قال: دعاني رسولُ الله ﷺ فقال:"يا علي، إنَّ فيك من عيسى مثلًا، أبغَضَه اليهودُ حتى بهَنُوا أمَّه، وأحبّتْه النصارى حتى أنزَلُوه بالمنزلةِ التي ليس بها". قال: وقال عليٌّ: ألا وإنه يَهلِك فيَّ مُحِبٌّ مُطْري يُقَرِّظُني بما ليس فيَّ، ومُبغِض مُفْتَرٍ يَحمِلُه شَنَآني على أن يَبْهتَني، ألا وإني لست بنبيٍّ، ولا يوحى إلي، ولكني أعمل بكتاب الله وسنة نبيه ﷺ بما استطعتُ، فما أمرتُكُم به من طاعةِ الله تعالى، فحقٌّ عليكم طاعتي فيما أحببتُم أو كرهتُم، وما أمرتُكُم بمعصيةٍ أنا وغيري، فلا طاعةَ لأحدٍ في معصيةِ الله ﷿، إنما الطاعةُ في المعروفِ (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4622 - الحكم بن عبد الملك وهاه ابن معين
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلا کر فرمایا: اے علی! تجھ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جھلک موجود ہے۔ یہودیوں نے ان سے بغض کیا (اور وہ بغض و عداوت میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ) ان کی والدہ محترمہ پر بہتان تراشی کے مرتکب ہو گئے۔ اور عیسائیوں نے ان سے محبت کی (اور یہ لوگ محبت میں اس قدر آگے نکل گئے کہ) ان کو ایسے مقام پر فائز کر دیا جس کے وہ لائق نہ تھے (یعنی ان کو خدا کہنے لگ گئے) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھ سے محبت کرنے والوں کو ان کے اس رویئے نے ہلاک کر دیا کہ انہوں نے مجھ میں ایسی چیز ثابت کی جو کہ حقیقت میں مجھ میں نہ تھی۔ اور مجھ سے بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض نے اس بات پر ابھارا کہ وہ مجھ پر بہتان لگانے لگے۔ خبردار! میں نبی نہیں ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے۔ میں تو اپنی ہمت کے مطابق اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتا ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے سلسلے میں جو تمہیں حکم دوں تم پر لازم ہے کہ تم میرے حکم کی تعمیل کرو خواہ وہ حکم تمہیں اچھا لگے یا برا لگے۔ اور اگر میں یا کوئی بھی تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو خبردار! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اطاعت تو فقط جائز کاموں میں ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4672]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4672 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك - وهو القرشي البصري - وربيعة بن ناجذ تفرد بالرواية عنه أبو صادق، وذكره ابن حبان في "الثقات"، لكن قال الذهبي في "الميزان": لا يكاد يُعرف، وقال في "المغني في الضعفاء": فيه جهالة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حکم بن عبد الملک (القرشی البصری) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اور ربیعہ بن ناجذ سے صرف ابو صادق نے روایت کی ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا، لیکن ذہبی نے کہا: وہ پہچانا نہیں جاتا، اور اس میں جہالت ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زوائده على "المسند" لأبيه 2 / (1376)، والنسائي (8434) من طريق أبي حفص عمر بن عبد الرحمن الأبّار، وعبد الله بن أحمد (1377) من طريق أبي غيلان سعد بن طالب الشيباني، كلاهما عن الحكم بن عبد الملك بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد (2/ 1376) اور نسائی (8434) نے ابو حفص عمر بن عبد الرحمن الابار کے طریق سے؛ اور عبد اللہ بن احمد (1377) نے ابو غیلان سعد بن طالب کے طریق سے، دونوں نے حکم بن عبد الملک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ من هذا الخبر قولُ عليٍّ ﵁: يهلك فيَّ محبٌّ مُطرٍ، ومبغض مفترٍ، من طرق عديدة عنه، ومن ذلك:
📌 اہم نکتہ: اس خبر سے علی کا یہ قول صحیح ثابت ہے: ”میرے بارے میں حد سے زیادہ محبت کرنے والا اور جھوٹا بغض رکھنے والا ہلاک ہوگا۔“ یہ متعدد طرق سے مروی ہے، ان میں سے:
ما أخرجه ابن أبي شيبة 12/ 84، وأحمد بن حنبل في "فضائل الصحابة" (952)، والبلاذري في "أنساب الأشراف" 2/ 362، وابن أبي عاصم في "السنة" (983)، وعبد الله بن أحمد في "السنة" (1338)، وابن الأعرابي في "معجمه" (1541) و (1542)، والآجري في "الشريعة" (2033) و (2035)، وابنُ عساكر 42/ 297 من طريق أبي السَّوّار العدوي، عن علي بن أبي طالب، قال: لَيُحبّني قوم حتى يدخلوا بي النار في حبّي، وليبغضني قوم حتى يدخلوا النار في بُغضي. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ، احمد، بلاذری، ابن ابی عاصم، عبد اللہ بن احمد، ابن الاعرابی، آجری اور ابن عساکر نے ابو السوار العدوی عن علی سے روایت کیا: ”کچھ لوگ مجھ سے محبت کریں گے یہاں تک کہ میری محبت میں جہنم میں جائیں گے، اور کچھ بغض رکھیں گے یہاں تک کہ بغض میں جہنم میں جائیں گے۔“ اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرج ابن أبي شيبة 12/ 85، وأحمد في "فضائل الصحابة" (964)، وعبد الله بن أحمد في "السنة" (1339)، واللالكائي في "شرح أصول الاعتقاد" (2680) من طريق أبي مريم الحنفي، عن عليٍّ قال: يَهِلك فيّ رجلان: مُفرط في حبِّي، ومُفرط في بُغضي، وإسناده حسن. واللفظ المذكور لابن أبي شيبة ومن طريقه اللالكائي، وعند أحمد وابنه عبد الله بلفظ: يهلك فيَّ رجلان: مفرط غالٍ، ومُبغِض قال. وأخرجه بنحوه ابن أبي شيبة 12/ 84، وعنه ابن أبي عاصم في "السنة" (984) من طريق أبي حِبَرَة الضُّبَعي، عن عليٍّ. وإسناده حسن أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ، احمد، عبد اللہ بن احمد اور لالکائی نے ابو مریم الحنفی عن علی سے روایت کیا: ”میرے بارے میں دو لوگ ہلاک ہوں گے: محبت میں افراط کرنے والا اور بغض میں افراط کرنے والا۔“ اس کی سند حسن ہے۔ اور ابو حبرہ الضبعی عن علی سے بھی مروی ہے اور اس کی سند بھی حسن ہے۔
قوله: يُقرظُني، أي: يمدحُني.
📝 نوٹ / توضیح: ”یُقرظُنی“ یعنی: میری تعریف کرتا ہے۔
وشَنَآني، أي: بُغضي. والبَهْتُ: الافتراء.
📝 نوٹ / توضیح: "شَنَآنِي" کا مطلب ہے: میرا بغض (میری دشمنی)۔ اور "البَهْتُ" کا مطلب ہے: افترا (بہتان باندھنا یا جھوٹ گھڑنا)۔