🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. كَانَ عَلِيٌّ أَوَّلَنَا بِهِ لُحُوقًا ، وَأَشَدَّنَا بِهِ لُزُوقًا .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم سب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے پہلے جا ملنے والے اور سب سے زیادہ قریب رہنے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4684
سمعتُ قاضيَ القضاة أبا الحسن محمد بن صالح الهاشمي يقول: سمعتُ أبا عُمر القاضي يقول: سمعتُ إسماعيل بن إسحاق القاضي يقولُ: وذُكر له قولُ قُثَمَ هذا، فقال: إنما يرثُ الوارثُ بالنسَبِ أو بالولاءِ، ولا خلافَ بين أهل العلم أنَّ ابنَ العمِّ لا يرثُ مع العَمِّ، فقد ظهر بهذا الإجماعِ أن عليًّا ورثَ العلمَ من النبي ﷺ دُونَهم (1) . وبصحةِ ما ذكره القاضي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اسماعیل بن اسحاق القاضی نے قثم بن عباس کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: وارث تو نسب یا ولاء کے ذریعے وراثت پاتا ہے، اور اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ چچا کی موجودگی میں ابن العم (چچا زاد) مالی وارث نہیں ہوتا، لہٰذا اس اجماع سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کی وراثت پائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4684]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4684] [ترقيم الشركة 4658] [ترقيم العلميه 4634]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4684 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وعلى ذلك حمل ابن مَعِين هذا الخبرَ أيضًا في سؤال ابن الأُشْناني له عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 393.
📝 نوٹ / توضیح: ابن معین نے بھی اس خبر کو اسی مفہوم (علمی وراثت) پر محمول کیا ہے، جیسا کہ ابن الاشنانی کے سوال میں ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (42/ 393) میں مذکور ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4684 in Urdu