المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. اشتاقت الجنة إلى ثلاثة على وعمار وسلمان .
جنت تین اشخاص کے لیے مشتاق ہے: سیدنا علی، سیدنا عمار اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہم
حدیث نمبر: 4716
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا سيّار بن حاتم، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا مالك بن دينار، قال: سألتُ سعيد بن جُبَير، فقلتُ: يا أبا عبد الله، مَن كان حاملَ رايةِ رسولِ الله ﷺ؟ قال: فنظر إليَّ وقال: كأنك رَخِيُّ البالِ، فغضبتُ وشكَوتُه إلى إخوانِه من القُرّاء، فقلت: ألا تَعجَبون من سعيد، إني سألتُه مَن كان حاملَ رايةِ رسول الله ﷺ؟ فنظر إليَّ وقال: إنك لَرخِيُّ البالِ، قالوا: إنك سألتَه وهو خائفٌ من الحَجّاج، وقد لاذَ بالبيت، فسَلْه الآن، فسألته، فقال: كان حاملها عليّ، هكذا سمعته من عبد الله بن عبّاس (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ولهذا الحديثِ شاهدٌ من حديث زَنْفَل العَرَفي، وفيه طُولٌ فلم أُخرّجه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4665 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ولهذا الحديثِ شاهدٌ من حديث زَنْفَل العَرَفي، وفيه طُولٌ فلم أُخرّجه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4665 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم بردار کون تھا؟ (سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: انہوں نے میری جانب دیکھا، اور بولے: تم بہت کمزور دل ہو، یہ بات مجھے اچھی نہ لگی، میں نے ان کے قراء ساتھیوں سے ان کی شکایت کر دی، میں نے کہا: تمہیں سعید پر حیرانی نہیں ہوتی؟ میں نے اس سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علمبردار کون تھا؟ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور بولا: تو بہت کمزور دل شخص ہے۔ لوگوں نے کہا: تو نے یہ سوال تو اس سے کر لیا ہے لیکن وہ حجاج سے خوف زدہ ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پناہ گزین ہے، اب آپ (دوبارہ) اس سے یہی سوال کر کے دیکھیں۔ میں نے دوبارہ وہی سوال ان سے کیا تو وہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم بردار سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، بالکل اسی طرح میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ زنفل عرفی سے مروی کی ایک حدیث اس حدیث کی شاہد بھی موجود ہے لیکن اس میں طول بہت ہے اس لئے میں نے اس کو (یہاں) نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4716]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4716 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجال هذا الإسناد لا بأس بهم، لكن وقع فيه هنا عند المصنف خطأ، إذ جعل الخبر من رواية سعيد بن جبير عن ابن عباس متصلًا، وإنما هو من رواية مالك بن دينار عن إخوان سعيد الذين لم يسمِّ، كذلك جاء في "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (1163)، وهو من رواية أحمد بن جعفر القَطِيعي أيضًا عن عبد الله أحمد بن بن حنبل عن أبيه، يعني بمثل إسناد المصنف هنا تمامًا، وكذلك جاء في رواية صالح بن أحمد بن حنبل عن أبيه، بإسناده المذكور هذا، كما في "مسائله" لأبيه (870)، وعن صالح بن أحمد رواه أيضًا الخرائطي في "مكارم الأخلاق" (547). فظهر بذلك خطأ ما جاء عند المصنف هنا، وقد يكون الوهم فيه من جهة الحاكم نفسه ﵀ لما أملاهُ من حفظه، والله أعلم.
📝 تصحیح / نوٹ: اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، لیکن یہاں مصنف (حاکم) سے غلطی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس خبر کو سعید بن جبیر عن ابن عباس سے "متصل" بنا دیا، حالانکہ درحقیقت یہ مالک بن دینار کی روایت ہے جو سعید کے بھائیوں سے ہے جن کا نام نہیں لیا گیا (مجہول)۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ اسی طرح احمد بن حنبل کی "فضائل الصحابہ" (1163) میں ہے... اور صالح بن احمد بن حنبل کے مسائل (870) اور خرائطی کی "مکارم الاخلاق" (547) میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مصنف کے ہاں یہاں غلطی ہے، اور ہو سکتا ہے یہ وہم خود حاکم سے ہوا ہو جب انہوں نے اپنے حافظے سے اسے املاء کرایا۔ واللہ اعلم۔
وقد تبيَّن من رواية أخرى عن مالك بن دينار عند ابن سعد 3/ 23 أحسن من رواية أحمد بن حنبل وأقوى رجالًا: أنَّ الذي أخبر مالك بن دينار بذلك هو معبدٌ الجُهني، حيث جاء فيها ما نصُّه: فقال لي معبدٌ الجهني: أنا أُخبِرك، كان يحملها في المسير ابن ميسرة العَبْسي، فإذا كان القتالُ أخذها علي بن أبي طالب. ومعبدٌ الجُهني تابعيّ وهو أول من تكلَّم في القدر زمن الصحابة، وهو قويٌّ في الرواية، فخبره هذا مرسَلٌ لا بأس به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن سعد (3/ 23) کے ہاں مالک بن دینار سے مروی ایک اور روایت سے - جو احمد کی روایت سے بہتر اور رجال میں قوی ہے - یہ واضح ہوتا ہے کہ مالک بن دینار کو یہ بات بتانے والے "معبد الجہنی" ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: "مجھے معبد الجہنی نے کہا: میں تمہیں بتاتا ہوں، سفر میں جھنڈا ابن میسرہ العبسی اٹھاتے تھے اور جب لڑائی ہوتی تو اسے علی بن ابی طالب لے لیتے تھے۔" معبد الجہنی تابعی ہیں اور یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے صحابہ کے دور میں "قدر" (تقدیر) کے مسئلے پر کلام کیا، لیکن وہ روایت میں "قوی" ہیں، لہٰذا ان کی یہ "مرسل" خبر قابل قبول ہے (لا بأس بہ)۔
ولكن لا بدّ من تقييد ذلك بأنَّ عليًّا إنما كان حامل راية المهاجرين دون غيرهم كما تقدم بيانه مفصلًا برقم (4633) و (4634).
📌 اہم نکتہ: لیکن اس بات کی قید لگانا ضروری ہے کہ علی رضی اللہ عنہ صرف "مہاجرین" کا جھنڈا اٹھاتے تھے، دوسروں کا نہیں، جیسا کہ نمبر (4633) اور (4634) میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
(1) لم نقف عليه فيما بأيدينا من مصادر الرواية، على أنَّ زَنْفَلًا هذا من تبع الأتباع، وهو ضعيف الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت ہمارے پاس موجود مصادر میں نہیں ملی۔ بہرحال یہ "زَنفَل" تبع تابعین میں سے ہے اور "ضعیف الحدیث" ہے۔