المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. الدليل على أن اللمس ما دون الجماع والوضوء منه
دلیل کہ جماع کے بغیر محض لمس سے وضو لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 473
ما حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو عبدِ الرحمن محمد ابن عبد الله التاجر قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: ما كان يومٌ - أو قَلَّ يومٌ - إلّا وكان رسول الله ﷺ يَطُوفُ علينا جميعًا فيُقبِّل ويَلمَسُ ما دون الوِقَاع، فإذا جاء إلى التي هي يومُها ثَبَتَ عندها (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایسا کوئی دن ہی ہوتا تھا (یا بہت کم ایسا ہوتا تھا) کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام ازواج کے پاس تشریف نہ لاتے ہوں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ دیتے اور جماع کے علاوہ چھوتے (پیار کرتے) تھے، پھر جس زوجہ کی باری ہوتی اسی کے ہاں قیام فرماتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 473]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 473 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل ابن أبي الزناد.
⚖️ درجۂ حدیث: عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (24765)، وأبو داود (2135) من طريقين عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، بهذا الإسناد. وسيأتي بأطول ممّا هنا برقم (2795)
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 41/ (24765) اور ابوداؤد (2135) نے عبدالرحمن بن ابی الزناد کے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے حدیث نمبر (2795) پر موجودہ متن سے زیادہ تفصیل کے ساتھ آئے گی۔