المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
116. خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً .
نبوی خلافت کی مدت تیس سال ہے
حدیث نمبر: 4749
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا عمرو بن عبد الله الأَوْدي، حدثنا محمد بن بِشر، عن موسى بن مُطَير، عن صَعْصعة بن صُوحان، قال: خَطَبَنا عليٌّ حين ضربَه ابن مُلجَم، فقلنا: يا أمير المؤمنين، استَخِلفْ علينا، فقال: أتركُكُم كما تركَنا رسولُ الله ﷺ، قلنا: يا رسول الله، استَخِلفْ علينا، فقال:"إنْ يَعلمِ اللهُ فيكم خيرًا يولِّ عليكم خِيارَكم". قال عليٌّ: فعَلِم اللهُ فينا خيرًا فولّى علينا أبا بكر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4698 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4698 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
صعصعہ بن صوحان سے روایت ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، ہم نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ نامزد فرما دیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ رہا ہوں جس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھوڑا تھا۔“ ہم نے (پہلے) عرض کیا تھا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ بنا دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر اللہ تمہارے حق میں خیر جانتا ہوگا تو تم پر تمہارے بہترین شخص کو حاکم بنا دے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”چنانچہ اللہ نے ہمارے حق میں خیر دیکھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4749]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل موسى بن مُطَير، فهو متروك الحديث، وكذّبه ابن مَعِين، ويغلب على الظن أنه سقط من إسناده هنا عند المصنف ذكر مُطَير والد موسى، فقد زاده في الإسناد أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة في روايته عن محمد بن بشر - وهو الأسدي الحريري - عند ...» [ترقيم الرساله 4749] [ترقيم الشركة 4723] [ترقيم العلميه 4698]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل موسى بن مُطَير
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4749 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل موسى بن مُطَير، فهو متروك الحديث، وكذّبه ابن مَعِين، ويغلب على الظن أنه سقط من إسناده هنا عند المصنف ذكر مُطَير والد موسى، فقد زاده في الإسناد أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة في روايته عن محمد بن بشر - وهو الأسدي الحريري - عند خيثمة بن سليمان الأطرابُلُسي في "حديثه" ص 131، وتابعه يعقوب بن تواب عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 289. وإذا ثبت ذلك فمُطَير هذا هو ابن أبي خالد، وهو ضعيف أيضًا. وقد روي من طريق آخر عند المصنف بعده عن صعصعة بن صوحان إلّا أنَّ في الإسناد إليه رجلًا متروكًا وآخر ضعيفًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "انتہائی ضعیف" ہے موسیٰ بن مطیر کی وجہ سے، وہ "متروک الحدیث" ہے اور ابن معین نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: غالب گمان ہے کہ مصنف کے ہاں یہاں سند سے "مطیر" (موسیٰ کے والد) کا نام گر گیا ہے، کیونکہ خیثمہ بن سلیمان کی کتاب "حدیثہ" (ص 131) میں احمد بن حازم نے محمد بن بشر (الاسدی الحریری) سے روایت کرتے ہوئے اسے سند میں شامل کیا ہے، اور ابن عساکر (30/ 289) کے ہاں یعقوب بن تواب نے ان کی متابعت کی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ "مطیر بن ابی خالد" ہیں اور وہ بھی "ضعیف" ہیں۔ مصنف کے ہاں آگے یہ حدیث صعصعہ بن صوحان کے دوسرے طریق سے بھی آ رہی ہے مگر اس کی سند میں بھی ایک "متروک" اور ایک "ضعیف" راوی ہے۔
وقد تقدَّم من وجه آخر عن عليّ برقم (4517)، وهو ضعيف، وانظر ما سلف برقم (4608).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے نمبر (4517) پر گزر چکی ہے اور وہ ضعیف ہے، نیز نمبر (4608) بھی ملاحظہ کریں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4749 in Urdu