🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. أهل بيتي أمان لأمتي من الاختلاف .
میرے اہلِ بیت میری امت کے لیے اختلاف سے امان ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4767
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدّارمي، حدثنا علي بن بَحْر بن بَرِّي، حدثنا هشام بن يوسف الصَّنْعاني. وحدثنا أحمد بن سَهْل الفقيه ومحمد بن علي الكاتب البُخارِيّان ببُخارَى، قالا: حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، حدثني عبد الله بن سليمان النَّوفَلي، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"أحِبُّوا اللهِ لِمَا يَعْذُوكُم به من نِعَمِه، وأحِبُّوني لحُبِّ الله، وأحِبُّوا أهلَ بيتي لحُبِّي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4716 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں نعمتیں عطا فرماتا ہے، اس لئے اس سے محبت کرو اور اللہ کی محبت کے لئے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کے لئے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4767]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4767 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن سليمان النَّوفلي، فلم يرو عنه غير هشام بن يوسف الصَّنْعاني، ولم يؤثر توثيقه عن أحدٍ، ومع ذلك حسَّن الترمذيُّ حديثَه هذا!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد عبداللہ بن سلیمان النوفلی کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے؛ کیونکہ ان سے ہشام بن یوسف الصنعانی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور کسی ایک سے بھی ان کی توثیق منقول نہیں۔ اس کے باوجود امام ترمذی نے ان کی اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے!
فقد أخرجه الترمذي (3789) عن أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، عن يحيى بن مَعِين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے ترمذی (3789) نے ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی سے، از یحییٰ بن معین، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔