المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
142. سنة ولادة فاطمة - رضي الله عنها - .
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت کا سال
حدیث نمبر: 4814
أخبرنا الحسن بن محمد بن إسحاق المهرجاني، حدثنا محمد بن زكريا بن دينار البصري [حدثنا العباس بن بَكّار] (1) حدثنا عبد الله بن المثنى، عن ثُمَامة بن عبد الله بن أنس، عن أنس بن مالك، قال: سألتُ أمي عن فاطمة بنت رسول الله ﷺ، فقالت: كانت كالقمرِ ليلةَ البدرِ، أو كشمسٍ كَفَرَ غَمامًا إذا خرج من السَّحاب، بيضاءَ مُشرَبةً حُمرةً، لها شعرٌ أسود، من أشد الناس برسول الله ﷺ شَبَهًا والله، كما قال الشاعر: بيضاءَ تَسحَبُ من قيامٍ شعرَها … وتغيبُ فيه وهو جَثْلٌ (2) أسحَمُ فكأنها فيهِ نَهارٌ مُشرِقٌ … وكأنه ليلٌ عليها مُظلم (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4759 - موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4759 - موضوع
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی والدہ محترمہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح تھا، یا اس سورج کی طرح تھا جس کو بادلوں نے چھپا رکھا ہو، پھر جب وہ بادلوں سے نکلتا ہے تو خوب چمکدار ہوتا ہے، ان کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، بال انتہائی سیاہ تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت مشابہت رکھتی تھیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔ اس کا رنگ سفید ہے لیکن بالوں کی وجہ سے جب وہ ان میں چھپ جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے انتہائی سخت سیاہ ہو۔ (اس کے رنگ کی سفیدی کا عالم یہ ہے کہ) گویا کہ وہ چمکنے والا دن ہے۔ (اور بالوں کی سیاہی کا یہ عالم ہے کہ) گویا کہ انتہائی تاریک رات ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4814]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4814 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط اسم العباس بن بكار من أصولنا الخطية، ومن "تلخيص الذهبي"، وأثبتناه من "فضائل فاطمة الزهراء" للمصنف (77) حيث رواه بإسناده الذي هنا نفسه، ويؤيده أنَّ حمزة بن يوسف السَّهمي قد أخرجه في "تاريخ جرجان" ص 170 - 171 من طريق محمد بن زكريا الغلابي عن العباس بن بكار عن عبد الله بن المثنى، هذا وقد روى محمد بن زكريا عدة روايات لعبد الله بن المثنى كلها بواسطة العباس بن بكار، فتأكد ثبوته في هذا الإسناد.
📝 نوٹ / توضیح: (1) عباس بن بکار کا نام ہمارے قلمی نسخوں اور ذہبی کی "تلخیص" سے گر گیا (ساقط ہو گیا) تھا، ہم نے اسے مصنف کی "فضائل فاطمہ الزہراء" (77) سے ثابت کیا ہے جہاں انہوں نے اسے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حمزہ بن یوسف السہمی نے "تاریخ جرجان" (ص 170-171) میں اسے محمد بن زکریا الغلابی کے طریق سے روایت کیا ہے جو عباس بن بکار سے اور وہ عبداللہ بن مثنیٰ سے روایت کرتے ہیں۔ مزید برآں محمد بن زکریا نے عبداللہ بن مثنیٰ سے متعدد روایات عباس بن بکار کے واسطے سے ہی نقل کی ہیں، لہٰذا اس اسناد میں ان کا نام ثابت ہونا یقینی ہے۔
(2) تصحف في (ز) و (ب) إلى: حبل، بالحاء المهملة والباء الموحدة، وأُهملت الكلمة في (ص) و (م)، وجاءت على الصواب معجمة في (ع) و "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تصحیف (نقطوں/حروف کی غلطی) کا شکار ہو کر "حبل" (حائے مہملہ اور بائے موحدہ کے ساتھ) بن گیا، نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ مہمل (بغیر نقطوں کے) چھوڑ دیا گیا، جبکہ نسخہ (ع) اور ذہبی کی "تلخیص" میں یہ درست طور پر معجمہ (نقطوں کے ساتھ) آیا ہے۔
والأسحم: الأسود.
📚 لغوی تحقیق: "الأسحم" کا معنی ہے: کالا (الأسود)۔
والجَثْل من الشَّعر: أشدُّه سوادًا وغلظًا.
📚 لغوی تحقیق: بالوں کے لیے "الجَثْل" کا لفظ استعمال ہو تو اس کا مطلب ہے: سخت سیاہ اور گھنے بال۔
(3) إسناده تالف بالمرة من أجل محمد بن زكريا بن دينار البصري - وهو الغلابي - والعباس بن بكار - وهو العباس بن الوليد بن بكار الضبي - فهما متروكان، واتهمهما الدارقطني.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی اسناد بالکل تباہ (تالف بالمرۃ) ہے، جس کی وجہ "محمد بن زکریا بن دینار البصری" (جو الغلابی ہیں) اور "عباس بن بکار" (جو عباس بن ولید بن بکار الضبی ہیں) ہیں؛ یہ دونوں "متروک" ہیں اور دارقطنی نے ان دونوں کو (وضع حدیث سے) متہم کیا ہے۔
وهو في "فضائل فاطمة الزهراء" للمصنف (77).
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کی "فضائل فاطمہ الزہراء" (77) میں موجود ہے۔
وأخرجه حمزة بن يوسف السَّهْمي في "تاريخ جرجان" 1/ 170 - 171 من طريق بندار بن إبراهيم بن عيسى الإستراباذي، عن محمد بن زكريا بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حمزہ بن یوسف السہمی نے "تاریخ جرجان" [1/ 170-171] میں بندار بن ابراہیم بن عیسیٰ استرابادی کے طریق سے محمد بن زکریا سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔