المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
173. فمنهم إياس بن معاذ الأشهلي رضى الله عنه ، توفي بمكة قبل الهجرة
ان میں سے سیدنا ایاس بن معاذ اشہلی رضی اللہ عنہ ہیں، جو ہجرت سے پہلے مکہ میں وفات پا گئے
حدیث نمبر: 4890
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يزيد الرِّياحي، حدثنا عبد العزيز بن أبان، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي بن أبي طالب، قال: لما وَلَدَت فاطمةُ الحَسنَ، جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"أَرُون، ابنى ما سَمَّيتموه؟"، وذكر الحديث (1) . هذا آخر ما أدَّى إليه الاجتهادُ من ذكرُ مَناقِب أهلِ بيتِ رسولِ الله ﷺ بالأسانيد الصحيحة، مما لم يُخرجه الشيخان الإمامان، وقد أمليتُ ما أدَّى إليه اجتهادي من فضائل الخلفاء الأربعة وأهلِ بيت رسولِ الله ﷺ، ما يصحُّ منها بالأسانيد. ثم رأيتُ الأَولَى لنَظْمِ هذا الكتابِ الترتيبَ بعدَهم على التواريخ للصحابة رضي الله عنهم أجمعين من أولِ الإسلام إلى آخر من مات منهم، والله المُعِينُ على ذلك برحمتِه. فمنهم: إياس بن معاذ الأشهلي ﵁ تُوفي بمكة قبل الهجرة
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ (اس کے بعد تفصیلی حدیث بیان کی) سیدنا قتادہ کا بیان ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عاشورا کے دن جمعۃ المبارک کو شہید ہوئے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: ان روایات کو ہم نے امام حسین کے شہادت کے بیان میں تفصیل سے نقل کر دیا ہے، سننے والے کے لئے وہی کافی ہیں۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اہل بیت کے فضائل کے حوالے سے جن احادیث کی تخریج نہیں کی تھی میں نے انتہائی محنت کے ساتھ ان کو جمع کیا ہے، ان میں سے یہ آخری حدیث تھی۔ یہاں تک خلفاء راشدین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل صحیح سند والی روایت کے ہمراہ ہم نے بیان کر دیئے ہیں۔ ان کے ذکر کے بعد اس کتاب کی ترتیب میں نے اس طرح رکھی ہے کہ اسلام کے آغاز سے لے کر آخری صحابی کی وفات تک تاریخ وفات کے اعتبار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی اپنی رحمت کاملہ کے ساتھ اس پر مددگار ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4890]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4890 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد العزيز بن أبان - وهو ابن محمد الأموي - فهو متروك واتهمه بعضهم، لكن تقدَّم الحديث برقم (4829) من طريق عُبيد الله بن موسى العبسي عن إسرائيل - وهو ابن يونس بن أبي إسحاق السَبيعي - وهو حديث منكر كما تقدَّم بيانه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند عبدالعزیز بن ابان (ابن محمد الاموی) کی وجہ سے "ضعیف جداً" ہے، وہ "متروک" ہیں اور بعض نے ان پر الزام بھی لگایا ہے۔ لیکن یہ حدیث نمبر (4829) پر عبیداللہ بن موسیٰ العبسی عن اسرائیل (ابن یونس) کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہ حدیث "منکر" ہے جیسا کہ بیان ہو چکا۔