🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
214. ذكر مناقب عمرو بن الجموح بن زيد بن كعب الخزرجي
سیدنا عمرو بن الجموح بن زید بن کعب خزرجی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4980
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّارِي بمَرْو، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغَزّال حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، حَدَّثَنَا ابن المُبارَك، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنَّ عمر بن الخطاب لما فَرَض للناسِ فَرَض لعبد الله بن حنظلة ألفي درهمٍ، فأتاهُ حنظلةُ بابنِ أخٍ له، ففَرَض له دون ذلك، فقال له: يا أميرَ المؤمنين، فَضّلتَ هذا الأنصاريَّ على ابن أخي؟ فقال: نعم، لأني رأيتُ أباهُ يومَ أُحُدٍ يَستَنُّ بسيفِه كما يَستَنُّ الجَمَلُ (1) . ذكرُ مناقب عَمرو بن الجَمُوح بن زيد بن حَرام بن كعب الخَزْرجي وكان سيّدَ قبيلتِه، وكان أعرجَ، فقُتل هو وابنُه خَلّاد بن عمرو يومَ أَحُدٍ، حَمَلا جميعًا على المشركين، وانكشف المسلمون (1) فقُتِلا جميعًا، ومعهما أبو أيمن (2) مولى عَمرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4918 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا زید بن اسلم فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب لوگوں میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا عبداللہ کو دو ہزار درہم دیئے، تو سیدنا (طلحہ) اپنے بھتیجے کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو عبداللہ بن حنظلہ سے کم حصہ دیا۔ تو (سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ نے اس انصاری کو میرے بھتیجے سے زیادہ حصہ دیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ (واقعی میں نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کو اس سے زیادہ حصہ دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے ان کو جنگ احد کے دن اس طرح دوڑ دوڑ کر تلوار چلاتے دیکھا ہے جیسے اونٹ دوڑتا ہے۔ وہ (سیدنا عمرو بن الجموح) اپنی قوم کے سردار تھے اور لنگڑے تھے، پس وہ اور ان کا بیٹا خلاد بن عمرو احد کے دن (شہید) ہوئے، ان دونوں نے مشرکین پر اکٹھے حملہ کیا اور مشرکین پیچھے ہٹ گئے، پھر وہ دونوں قتل (شہید) ہوئے اور ان کے ساتھ عمرو کے غلام ابو یمن بھی تھے۔ ہمیں یہ روایت ابو عبد اللہ الاصبہانی نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسن بن الجہم نے بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الحسین بن الفرج نے بیان کی، انہوں نے محمد بن عمر سے اور انہوں نے اپنے شیوخ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4980]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4980 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن زيد بن أسلم فيه لينٌ، وقد انفرد بهذا الخبر عن عمر بن الخطاب، ثم هو مرسل لأنَّ زيد بن أسلم لم يدركه. وعلى فرض صحة هذا الخبر فإنَّ ذكر حنظلة فيه خطأ، لأنَّ ابن المبارك قد أخرجه في "الجهاد" (87)، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر في "تاريخه" 27/ 426 فذكر أنَّ الذي جاء بابن أخيه هو طلحة - يعني ابن عُبيد الله - وطلحة قرشي، فيسوغ حينئذٍ تعبيره في الاحتجاج أمام عُمر: فَضّلتَ هذا الأنصاريَّ على ابن أخي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم "لین" (کمزور) ہیں، اور وہ عمر بن خطاب ؓ سے اس خبر میں منفرد ہیں، پھر یہ "مرسل" بھی ہے کیونکہ زید بن اسلم نے عمر ؓ کو نہیں پایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگر اس خبر کو صحیح بھی مان لیں تو اس میں "حنظلہ" کا ذکر غلط ہے، کیونکہ ابن مبارک نے "الجہاد": (87) میں (اور ابن عساکر: 27/ 426 نے ان کے طریق سے) ذکر کیا ہے کہ جو اپنے بھتیجے کو لے کر آیا وہ "طلحہ" (بن عبیداللہ) تھے، اور طلہ قرشی ہیں، تب ہی عمر ؓ کے سامنے ان کا احتجاج درست بیٹھتا ہے کہ: "آپ نے اس انصاری کو میرے بھتیجے پر فضیلت دی"۔
وقد صحَّ عن عمر بن الخطاب أنه كان يفاضل بين من يقسم فيهم الأُعطيات بأسباب ذكرها عمر في الخبر الذي أخرجه أبو داود (2950) وغيره، عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: ذكر عمر بن الخطاب يومًا الفيء، فقال: ما أنا بأحقَّ بهذا الفيء منكم، وما أحدٌ منا أحقَّ به من أحدٍ، إلَّا أنَّا على منازلنا من كتاب الله ﷿ وقَسْم رسول الله ﷺ، فالرجلُ وقِدمُه، والرجلُ وبَلاؤه، والرجلُ وعيالُه، والرجل وحاجتُه.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: عمر بن خطاب ؓ سے یہ بات صحیح ثابت ہے کہ وہ وظائف (اعطیات) کی تقسیم میں ترجیح دیتے تھے ان اسباب کی بنا پر جو انہوں نے اس خبر میں ذکر کیے جو ابو داؤد: (2950) وغیرہ میں مالک بن اوس بن الحدثان سے مروی ہے: عمر ؓ نے ایک دن فے کا ذکر کیا اور فرمایا: "میں اس فے کا تم سے زیادہ حقدار نہیں، اور ہم میں سے کوئی کسی سے زیادہ حقدار نہیں، سوائے اس کے کہ ہم کتاب اللہ اور تقسیمِ رسول ﷺ میں اپنے مراتب پر ہیں؛ پس آدمی اپنی قدامت (اسلام میں پہل) سے، اپنی آزمائش (جہاد) سے، اپنے اہل و عیال سے، اور اپنی حاجت سے (ترجیح پاتا ہے)"۔
(1) وقع في نسخنا الخطية: انكشف المشركون، وهو خطأ، صوَّبناه من "مغازي الواقدي" 1/ 264 وغيره.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں "انکشف المشرکون" (مشرکین پیچھے ہٹ گئے) لکھا تھا جو کہ غلط ہے، ہم نے "مغازی الواقدی": 1/ 264 وغیرہ سے اس کی تصحیح کی ہے (کہ مسلمان پیچھے ہٹے)۔
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: أبو نمر، والتصويب من كتب الصحابة والسيرة، انظر "سيرة ابن هشام" 2/ 126.
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں "ابو نمر" تحریف ہو گیا تھا، تصحیح کتبِ صحابہ و سیرت سے کی گئی ہے، دیکھیں "سیرت ابن ہشام": 2/ 126۔