🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
215. ذكر مناقب سعد بن معاذ بن النعمان بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشهل - ذكر شهادة سعد بن معاذ وحكمه فى بني قريظة
سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبد الاشہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی شہادت اور بنی قریظہ کے بارے میں آپ کا فیصلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا أبو الحسن بن أحمد بن شَبَّوَيهِ الرئيس بمَرْو، حَدَّثَنَا جعفر بن محمد النَّيْسابُوري، حَدَّثَنَا علي بن مِهْران، حَدَّثَنَا سلمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن عبد الله بن كعب بن مالك، أنه قال: إنَّ الذي رمى سعدَ بنَ معاذ يوم الخَنْدق حِبّانُ بن قيس ابن العَرِقةِ أحدُ بني عامر بن لؤي، فلما أصابه قال: خُذْها وأنا ابن العَرِقة. فقال سعدٌ: عَرّق اللهُ وجهَك في النارِ، ثم عاشَ سعدٌ بعدما أصابه سهمٌ نحوًا من شهرٍ، حتَّى حَكَمَ في بني قُريظَة بأمرِ رسولِ الله ﷺ، ورجع إلى مدينةِ رسول الله ﷺ، ثم انفَجَر كَلْمُه فماتَ ليلًا، فأتى جبريلُ ﵇ رسولَ الله ﷺ، فقال له: مَن هذا الذي فُتحت له أبوابُ السماءِ، واهتزَّ له عرشُ الرحمن؟ فخرج النَّبِيّ ﷺ إلى سعدٍ، فوجدَه قد مات (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4921 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن جس شخص نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تھا وہ بنی عامر بن لؤی قبیلے کا شخص حبان بن قیس بن عرقہ ہے۔ جب وہ تیر درست نشانے پر مارنے میں کامیاب ہو گیا تو اس نے کہا: اس کو پکڑ اور میں ابن العرقہ ہوں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے جہنم کا عذاب دے۔ اس تیر کے لگنے کے بعد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تقریباً ایک مہینہ تک زندہ رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے بعد وہ مدینہ شریف میں واپس آ گئے، یہان آ کر ان کے زخم سے خون بہنے لگا حتی کہ آپ رات کے وقت شہید ہو گئے۔ سیدنا جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: یہ کون شخص ہے جس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں اور اس کے لئے عرش معلیٰ بھی جھوم اٹھا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے، تو وہ وفات پا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4985]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4985 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، ومن دون محمد بن إسحاق هم بعضُ من روى كتاب "المبتدأ والمغازي" برواية سلمة بن الفَضْل - وهو الأبرش - عن ابن إسحاق، لكن وقع في هذا الإسناد الذي عند المصنّف وهمٌ في ذكر عبد الله بن كعب بن مالك، فلم يذكره أحدٌ من أصحاب محمد بن إسحاق، حتَّى إنَّ الطبري قد أخرج هذا الخبر في "تاريخه" 2/ 575 عن محمد بن حميد الرازي، عن سلمة بن الفضل الأبرش، عن ابن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسلًا لم يذكر فيه عبد الله كعب بن مالك، وكلاهما تابعيٌّ، ومما يؤيد أنَّ ذكر عبد الله بن كعب بن مالك في الإسناد هنا خطأٌ أنَّ ابن إسحاق نفسه قد روى كما في "سيرة ابن هشام" 2/ 227 عمَّن لا يَتَّهم، عن عبد الله بن كعب بن مالك أنه كان يقول: ما أصاب سعدًا يومئذٍ إلّا أبو أسامة الجُشمي حليف بني مخزوم … وذكر شعرًا له في ذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کی سند میں "عبداللہ بن کعب بن مالک" کا ذکر ایک وہم ہے۔ محمد بن اسحاق کے کسی شاگرد نے ان کا ذکر نہیں کیا، حتیٰ کہ طبری نے "تاریخ": 2/ 575 میں سلمہ بن فضل > ابن اسحاق > عاصم بن عمر بن قتادہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن کعب کا ذکر نہیں ہے۔ عاصم اور عبداللہ دونوں تابعی ہیں۔ اس غلطی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ خود ابن اسحاق نے ["سیرت ابن ہشام": 2/ 227] میں ایک غیر متہم شخص کے واسطے سے عبداللہ بن کعب بن مالک سے یہ قول نقل کیا ہے کہ "سعد کو اس دن ابو اسامہ الجشمی نے تیر مارا تھا..."۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 227 عن زياد بن عبد الله البكائي، والدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 1/ 416 من طريق إبراهيم بن سعد، والبيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 441، وابن الأثير الجزري في "أسد الغابة" 2/ 222 من طريق يونس بن بُكَير، ثلاثتهم عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسلًا لم يذكروا فيه عبد الله بن كعب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ہشام نے "السیرۃ النبویہ": 2/ 227 میں زیاد بن عبداللہ البکائی سے، دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف": 1/ 416 میں ابراہیم بن سعد کے طریق سے، اور بیہقی نے "دلائل النبوۃ": 3/ 441 اور ابن اثیر نے "اسد الغابہ": 2/ 222 میں یونس بن بکیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ان تینوں نے ابن اسحاق > عاصم بن عمر بن قتادہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے اور عبداللہ بن کعب کا ذکر نہیں کیا۔
والظاهر أنَّ عاصم بن عمر بن قتادة سمع هذه القصة من جدته رُميثة بنت عمرو بن هاشم بن المطلب، فقد روى عنها طرفًا من قصة سعد بن معاذ حين مات، فقال النَّبِيّ ﷺ: "اهتز عرشُ الرحمن ﵎". أخرجه أحمد 44 / (26793) وغيره، وسيأتي عند المصنِّف برقم (7102). وإسناده حسن.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ظاہر یہ ہے کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے یہ قصہ اپنی دادی "رمیثہ بنت عمرو" سے سنا ہے، کیونکہ انہوں نے انہی سے سعد بن معاذ کی وفات کے وقت کا یہ قصہ روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "رحمٰن کا عرش ہل گیا"۔ اسے مسند احمد: 44/ (26793) وغیرہ نے روایت کیا اور عنقریب مصنف کے ہاں نمبر (7102) میں آئے گا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وانظر الأحاديث الآتية بعده.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس کے بعد آنے والی احادیث دیکھیں۔