المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 503
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن سَهْم، حدثنا عبد الله بن محمد بن رَبِيعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر: أنتوضَّأُ منه؟ فقال:"الطَّهُورُ ماؤُه، والحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . ومنهم أبو سلمة بن عبد الرحمن:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا: ”کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن محمد بن ربيعة: وهو القُدَامي المصّيصي» [ترقيم الرساله 503] [ترقيم الشركة 499]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 503 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن محمد بن ربيعة: وهو القُدَامي المصّيصي. والحديث صحيح كما سبق.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند عبداللہ بن محمد بن ربیعہ (القدامی المصیصی) کی وجہ سے بہت کمزور (واہی) ہے، اگرچہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "سننه" (82) عن محمد بن إسماعيل الفارسي، عن إسحاق بن سهم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے اپنی "سنن" (82) میں محمد بن اسماعیل فارسی عن اسحاق بن سہم کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 503 in Urdu