المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
238. لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها
سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — قبروں پر نہ بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا هارون بن سليمان الأصبهاني، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا ابن المبارك، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، سمعت بُسْر بن عُبيد الله الحَضْرمي، سمعت أبا إدريسَ الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ واثلةَ بن الأسْقَع، سمعت أبا مَرثَدٍ الغَنَوي يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا تَجلِسُوا على القُبور، ولا تُصَلُّوا إليها (1) ". صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2) ! وقد تفرَّد عبد الله بن المبارك بذِكْر أبي إدريسَ الخَولانيِّ فيه بين بُسر بن عُبيد الله وواثلة، فقد رواه بِشر بن بكر والوليد بن مَزْيَد (1) ، عن بسر، سمعتُ واثلةَ بن الأسقَع. أما حديث بِشْر:
سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قبروں پر بیٹھو نہ ان کی جانب رخ کر کے نماز پڑھو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں بشر بن عبیداللہ اور واثلہ کے درمیان ابوادریس خولانی کا ذکر کرنے میں عبداللہ بن المبارک منفرد ہیں۔ اور اسی حدیث کو بشر بن بکر اور ولید بن یزید نے بشر کے بعد بلاواسطہ واثلہ بن اسقع سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) بشر بن بکر کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5042]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5042 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی حدیث کی طرح یہ بھی "صحیح" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم كما تقدم، فلا يستدرك عليه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: چونکہ امام مسلم اسے اپنی صحیح میں تخریج کر چکے ہیں، اس لیے اس پر (مستدرک کے طور پر) استدراک کی ضرورت نہیں رہتی۔
(1) رواية الوليد بن مَزْيَد هذه عند أبي عوانة في "صحيحه" (1179)، والبيهقي في "السنن" 4/ 79، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 10/ 160.
📖 حوالہ / مصدر: ولید بن مَزید کی یہ روایت ابوعوانہ (1179)، بیہقی (4/79) اور ابن عساکر (10/160) کے ہاں موجود ہے۔