المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
256. ذكر مناقب عكاشة بن محصن بن قيس بن مرة بن كثير أبو محصن شهد بدرا وأحدا والخندق والمشاهد كلها مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم .
سیدنا عکاشہ بن محصن بن قیس بن مرہ بن کثیر ابومحصن رضی اللہ عنہ کے فضائل
آپ جنگ بدر، جنگ احد، جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک ہوئے۔
حدیث نمبر: 5078
أخبرني أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا سُفيان، عن عمرو، عن عُمر بن عبد الرحمن بن زيد بن الخَطَّاب، قال: كان عمرُ يُصابُ بالمُصيبة فيقولُ: أُصِبتُ بزيد بن الخَطّاب فَصَبرتُ. وأَبصَرَ عمرُ قاتلَ أخيه زيدٍ، فقال له: ويحَكَ، لقد قتلتَ لي أخًا ما هبَّتِ الصَّبَا إِلَّا ذَكَرتُه (2) . ذكرُ مناقب عُكّاشة بن مِحصَنِ بن قيس بن مُرّة بن كَثير أبو مِحصَنٍ شهد بدرًا وأُحدًا والخندقَ والمَشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5008 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5008 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بہت آزمائشیں آئیں، آپ کہا کرتے تھے: مجھے زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آزمائش آئی، میں نے اس پر صبر کیا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قاتل کو دیکھا تو فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے میرے بھائی کو شہید کر دیا، جب بھی باد صبا چلتی ہے تو مجھے ان کی یاد آتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5078]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5078 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر حسنٌ، وهذا إسناد رجالُه لا بأس بهم غير أنه مرسلٌ، فإنَّ عمر بن عبد الرحمن بن زيد بن الخَطّاب تابعيٌّ لا يُدرك عمر بن الخطّاب، ولذلك أتى به هنا بصيغة الإرسال. سفيان: هو ابن عيينة، وعمرو: هو ابن دينار المكي، ومحمد بن الصّبّاح: هو ابن سفيان الجَرْجرائي، ومحمد بن إسحاق: هو السَّرّاج.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "خبر حسن" ہے اور اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے اس کے کہ یہ "مرسل" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) عمر بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب ایک تابعی ہیں جنہوں نے (اپنے دادا) عمر بن خطابؓ کا زمانہ نہیں پایا، اسی لیے یہاں صیغہ ارسال استعمال ہوا ہے۔ 📝 راویوں کی تعیین: "سفیان" سے مراد ابن عیینہ، "عمرو" سے مراد ابن دینار المکی، "محمد بن صباح" سے مراد ابن سفیان الجرجرائی اور "محمد بن اسحاق" سے مراد السّرّاج ہیں۔
ورُوي تذكُّر عمر بن الخطاب لأخيه زيد بن الخطاب كلما هبَّتْ ريح الصِّبا عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عند أبي زرعة الدمشقي في باب الإخوة من تاريخه" كما في "الاستيعاب" لابن عبد البر ص 241، ورجاله ثقات، لكنه مرسل.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ فرمانا کہ "جب بھی بادِ صبا چلتی ہے مجھے اپنے بھائی زید بن خطاب کی یاد آتی ہے"، یہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے مروی ہے جسے ابو زرعہ الدمشقی نے اپنی تاریخ کے "باب الاخوۃ" میں ذکر کیا ہے (جیسا کہ ابن عبدالبر کی "الاستیعاب" ص 241 میں ہے)۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے۔
وروي مثلُه عن عبد الواحد بن أبي عون وعبد العزيز بن يعقوب الماجِشُون عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 351. وفي إسناده إليهما شيخُه الواقديُّ، لكنه لم ينفرد به كما ترى.
🧩 متابعات و شواہد: اسی جیسی روایت عبدالواحد بن ابی عون اور عبدالعزیز بن یعقوب الماجشون سے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 351) میں نقل کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کی سند میں ان دونوں تک ابن سعد کے شیخ "واقدی" ہیں، لیکن جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں واقدی اس میں منفرد نہیں ہیں۔
ومثلُه عن القاسم بن مَعْن المسعُودي عند ابن أبي الدنيا في "الهم والحزن" (140)، ومن طريقه البيهقي في "شعب الإيمان" (9727)، وابن عساكر في "تعزية المسلم" (21)، وهو مرسلٌ على ضعفٍ في بعض رجاله. وقد جاء في مُرسل ابن سيرين الذي تقدم تخريجه برقم (5076) أن اسم قاتل زيد بن الخطاب هو أبو مريم الحنفي.
🧩 متابعات و شواہد: اسی کی مثل قاسم بن معن المسعودی سے ابن ابی الدنیا نے "الہم والحزن" (140) میں، اور انہی کے طریق سے بیہقی نے "شعب الایمان" (9727) اور ابن عساکر نے "تعزیۃ المسلم" (21) میں روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت بھی "مرسل" ہے اور اس کے بعض راویوں میں ضعف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن سیرین کی مرسل روایت (جو نمبر 5076 پر گزر چکی) میں یہ صراحت ہے کہ زید بن خطابؓ کے قاتل کا نام "ابو مریم الحنفی" تھا۔