🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
260. ذكر مناقب أبى دجانة سماك بن خرشة الخزرجي رضى الله عنه - قتل أبو دجانة يوم مسيلمة شهيدا -
سیدنا ابو دجانہ سماک بن خرشہ خزرجی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ مسیلمہ کے مقابلے میں شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5086
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان في بني عبد الأشْهَل ثلاثةٌ لم يكن أحدٌ أفضلَ منهم: سعد بن مُعاذ، وأُسَيد بن حُضَير، وعَبّاد بن بِشْر. قال عَبّادُ بن عبد الله بن الزُّبَير: والله ما سمّاني أبي عبّادًا إلَّا به (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب أبي دُجَانة سِمَاك بن خَرَشة الخَزْرجيّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5016 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بنی عبدالاشہل میں تین آدمی ایسے ہیں کہ ان سے افضل کوئی شخص نہیں ہے۔ (1) سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ (2) سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ (3) سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں: میرے والد نے انہی تینوں کے اسمائے گرامی کی نسبت سے میرا نام عباد رکھا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5086]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5086 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) رجاله لا بأس بهم، فلولا أنَّ ابنَ إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار - عَنعَنه لكان الإسنادُ حسنًا، وقد ذكر ابن حجر في "الإصابة" في ترجمة أُسيد بن حُضَير 1/ 83 أنَّ ابن إسحاق قال: حدثنا يحيى بن عَبَّاد … إلّا أننا لم نقف على تصريحه بالسماع في شيء من مصادر تخريج الخبر، فالله تعالى أعلم، وأعاد ابن حجر خبر عائشة هذا في "الإصابة" في ترجمة عبّاد بن بشر 3/ 611 وصحَّحه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند کے رجال (راوی) "لا بأس بہم" (قابلِ قبول / ثقہ) ہیں، اگر ابن اسحاق (جو کہ محمد بن اسحاق بن یسار ہیں) کا "عنعنہ" (لفظ 'عن' سے روایت کرنا) نہ ہوتا تو یہ سند "حسن" ہوتی۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر عسقلانی نے "الاصابہ" (1/83) میں اسید بن حضیر ؓ کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ ابن اسحاق نے وہاں "حدثنا یحییٰ بن عباد" (ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی) کے الفاظ کہے ہیں (جو سماع کی تصریح ہے)، مگر ہمیں اس خبر کی تخریج کے مصادر میں کہیں بھی ان کے سماع کی صراحت نہیں ملی، واللہ اعلم۔ 📌 اہم نکتہ: ابن حجر نے حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت کو "الاصابہ" (3/611) میں عباد بن بشر ؓ کے ترجمہ میں دوبارہ ذکر کیا ہے اور اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 47، وأبو يعلى في "مسنده" (2389)، والطبراني في "الأوسط" (896)، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 470 - 471، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 80 و 89 من طريق إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق بهذا الإسناد. لكنه لم يذكر في آخره قول عبّاد بن عبد الله.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (2/47)، ابو یعلیٰ نے "المسند" (2389)، طبرانی نے "المعجم الاوسط" (896)، ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (صفحہ 470-471) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (9/80 و 89) میں کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ تمام روایات ابراہیم بن سعد کے طریق سے ہیں جو محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے روایت کے آخر میں عباد بن عبد اللہ کا قول ذکر نہیں کیا۔
وقال ابن عبد البر: ذكره أبو جعفر الطبري وأبو العباس محمد بن إسحاق السَّرّاج قالا: حدثنا محمد بن حُميد - وهو الرازي - حدثنا سلمة بن الفَضْل، عن ابن إسحاق، به. وذكر قول عبَّاد في آخره.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عبد البر فرماتے ہیں: اسے ابو جعفر الطبری اور ابو العباس محمد بن اسحاق السراج نے ذکر کیا ہے، ان دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن حمید (جو کہ رازی ہیں) نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہمیں سلمہ بن فضل نے محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا، اور اس روایت کے آخر میں عباد کا قول بھی ذکر کیا۔