المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
286. ذكر شجاعة هشام بن العاص يوم أجنادين وشهادته
یومِ اجنادین سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ان کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 5128
قال ابن عمر: فحدثَني ثَور بن يَزيد، عن خالد مَعْدان، قال: لما بن انهزمتِ الرُّومُ يومَ أجنادينَ انتهَوا إلى موضعٍ ضَيِّق لا يَعبُرُ إلَّا إنسانٌ إنسانٌ، فجعلتِ الرومُ تُقاتل عليه، وقد تَقدَّمُوه وعَبَروه، فتقدّم هشامُ بن العاص بن وائل فقاتَلَهم عليه حتى قُتِل، وذلك في أول خِلافة عُمر بن الخطاب سنة ثلاثَ عشرةَ (4) .
خالد بن معدان کہتے ہیں: جنگ اجنادین کے دن جب رومیوں کو شکست ہوئی، تو وہ ایک بہت تنگ جگہ پر جا پھنسے جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک آدمی ہی گزر سکتا تھا، رومیوں نے وہاں پر مسلمانوں پر ہلہ بول دیا کیونکہ یہ لوگ اس مقام کو عبور کر چکے تھے۔ پھر سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ان سے لڑائی شروع کر دی آپ لڑتے لڑتے وہیں پر شہید ہو گئے، یہ واقعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے بالکل اوائل تیرہویں سن ہجری کا ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5128]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5128 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 4/ 180 عن محمد بن عمر الواقدي، بإسناده هذا، وهو مرسل.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (4/180) میں محمد بن عمر الواقدی سے انہی کی سند کے ساتھ موجود ہے، اور یہ "مرسل" ہے۔
لكن ثبت بإسناد أصحّ من هذا عن أبي جهم بن حذيفة - وهو صحابي - عند ابن المبارك في "الجهاد" (116)، وفي "الزهد" (525) - ورواه غير واحدٍ من طريق ابن المبارك: أنَّ هشام بن العاص استُشهد يوم اليرموك. وإسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: لیکن اس سے زیادہ "صحیح" سند کے ساتھ ابو جہم بن حذیفہ (جو صحابی ہیں) سے ثابت ہے (دیکھیے: ابن المبارک کی "کتاب الجہاد" 116 اور "کتاب الزہد" 525) کہ ہشام بن العاص ؓ جنگِ یرموک میں شہید ہوئے تھے۔ کئی راویوں نے اسے ابن المبارک کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
وثبت كذلك عن عمرو بن العاص أخي هشام أنَّ أخاه هشامًا استُشهد يوم اليرموك، كما رواه ابن سعد 4/ 179، والبخاري في "التاريخ الأوسط" 1/ 360، وغيرهما بإسنادين أحدهما صحيح والآخر محتمل للتحسين فهذا هو الثبتُ في استشهاد هشام بن العاص أنه كان يوم اليرموك. والله تعالى أعلم.
📌 تحقیق و ترجیح: اسی طرح ہشام کے بھائی حضرت عمرو بن العاص ؓ سے بھی ثابت ہے کہ ان کے بھائی ہشام یرموک والے دن شہید ہوئے۔ اسے ابن سعد (4/179) اور بخاری نے "التاریخ الاوسط" (1/360) میں اور دیگر محدثین نے دو سندوں سے روایت کیا ہے؛ جن میں سے ایک "صحیح" ہے اور دوسری میں "حسن" ہونے کا احتمال ہے۔ لہٰذا ہشام بن العاص کی شہادت کے بارے میں مستند بات یہی ہے کہ وہ جنگِ یرموک میں شہید ہوئے۔ واللہ اعلم۔