المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
310. ذكر مناقب سعد بن عبادة الخزرجي النقيب رضى الله عنه
سیدنا سعد بن عبادہ خزرجی، نقیب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5176
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عمر، حدثني يحيى بن عبد العزيز بن سعيد بن سعد بن عُبادة بن دُلَيم بن حارثة بن النعمان بن أبي حَزِيمة (2) بن ثَعلبة بن طَرِيف بن الخَزْرج بن ساعِدةَ بن كعب بن الخَزْرج. قال محمد بن عمر: وكان سعد بن عُبادة يكنى أبا ثابت، وكان من الكَمَلَةِ، وهو أحدُ السبعين الذين بايَعوا رسولَ الله ﷺ من الأنصار ليلة العَقَبة في رواية جميعِهم، وأحدُ النُّقَباء الاثني عشر، وكان سيدًا جَوَادًا، ولم يَشْهَدْ بدرًا، ذُكِر أنه كان يَتأهّب للخروج إليهم، ويأتي دُورَ الأنصار يَحضُّهم على الخُروج، فنُهِش قبل أن يَخرُج فأقامَ، فقال رسولُ الله ﷺ:"لئِنْ كان سعدٌ لم يَشهَدْها، لقد كان عليها حَريصًا"، وقد شهد أُحدًا والخندقَ والمَشاهِدَ كلَّها (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5097 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5097 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
یحیی بن عبدالعزیز بن سعید نے سیدنا سعد بن عبادہ کا نسب یوں بیان کیا ہے۔” سعد بن عبادہ بن دلیم بن حارثہ بن نعمان بن ابی خزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج “۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوثابت تھی۔ تمام محدثین کی روایات کے مطابق ان کا شمار ان ستر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں ںے عقبہ کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور یہ بارہ مبلغین میں سے بھی ہیں۔ آپ سید تھے، سخی تھے۔ آپ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، آپ جنگ بدر میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتے تھے اور اس کے لئے آپ انصار کے گھروں میں جا جا کر ان کو جنگ کے لئے تیار کر رہے تھے، لیکن روانگی سے پہلے آپ کو سانپ نے ڈس لیا، جس کی وجہ سے آپ جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد اگرچہ بدر میں شریک نہیں ہو سکا لیکن اس کے دل میں بدر میں شرکت کی حسرت بہت تھی۔ اس کے بعد آپ احد، خندق اور تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5176]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5176 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) جاء في (ص) مُعجمًا بالخاء المعجمة، وفي (ز) صُحِّح فوق الحاء المهملة، وكلاهما مرويٌّ، كما جاء في "تاريخ بغداد" للخطيب في ترجمة قيس بن سعد بن عُبادة 1/ 529 وكما جاء في "الإملاء المختصر" لأبي ذرٍّ الخُشَني ص 19، لكنّ ضبْطَه بالحاء المهملة هو الأشهر، وهو الذي جَزَم به الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 2/ 911، وابن ماكولا في "الإكمال" 3/ 141، وابن الأثير في "أسد الغابة" في ترجمة سعد بن عبادة 2/ 206، وفي "اللُّباب في تهذيب الأنساب" في نسبة الساعدي 2/ 92، وهو الذي صَوَّبه أبو ذر الخُشني في "الإملاء"، وبعضهم يقول في نسبه: ابن حَزِيمة، دون لفظة "أبي" كما سماه عروة بن الزبير في أول الترجمة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ص) میں یہ لفظ نقطے والی "خ" (خاء معجمہ) کے ساتھ آیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں اسے بغیر نقطے والی "ح" (حاء مہملہ) کے ساتھ درست کیا گیا ہے، اور یہ دونوں ہی مروی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ خطیب کی "تاریخ بغداد" [1/ 529] میں قیس بن سعد بن عبادہ کے حالات میں اور ابو ذر الخشنی کی "الاملاء المختصر" (ص 19) میں ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لیکن "ح" (حاء مہملہ) کے ساتھ ضبط کرنا زیادہ مشہور ہے، اور اسی کا یقین (جزم) دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" [2/ 911] میں، ابن ماکولا نے "الاکمال" [3/ 141] میں، ابن اثیر نے "اسد الغابہ" (سعد بن عبادہ کے حالات میں) [2/ 206] اور "اللباب فی تہذیب الانساب" [2/ 92] میں کیا ہے، اور اسی کو ابو ذر الخشنی نے درست قرار دیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: بعض اہل علم ان کے نسب میں لفظ "ابی" کے بغیر صرف "ابن حزیمہ" کہتے ہیں، جیسا کہ عروہ بن زبیر نے ترجمے کے شروع میں ان کا نام لیا۔
(1) وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 567 عن محمد بن عمر الواقدي. وفي شهود سعد بن عبادة بدرًا خلافٌ كما تقدم.
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات" [3/ 567] میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے غزوہ بدر میں شریک ہونے میں اختلاف ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔