🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. استنانه عليه الصلاة والسلام فى مرض موته
رسولُ اللہ ﷺ کا اپنی وفات کے مرض میں مسواک کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وأخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا سليمان بن بلال، حدثنا هشام بن عُروة، أخبرني أَبي، عن عائشة قالت: دخل عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ يَستَنُّ به، فقلت له: أعطني هذا السِّواكَ يا عبد الرحمن، فأعطانِيهِ، فَقَضَمتُه ثم مَضَغتُه فأعطيتُه رسولَ الله ﷺ، فاستَنَّ به وهو مُستنِدٌ إلى صدري (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 513 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے، میں نے ان سے کہا: اے عبدالرحمن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے وہ مجھے دے دی، میں نے اسے (دانتوں سے درست کر کے) چبایا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل: وهو ابن أبي أُويس» [ترقيم الرساله 519] [ترقيم الشركة 515] [ترقيم العلميه 513]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 519 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل: وهو ابن أبي أُويس.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ اس کی یہ خاص سند اسماعیل بن ابی اویس کی وجہ سے "حسن" کے درجے کی ہے۔
وأخرجه البخاري (890) و (4450) عن إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (890) اور (4450) میں اسماعیل بن ابی اویس ہی کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اس حدیث کو (بخاری پر) مستدرک کرنا ان کی لغزش اور ذہنی سہو (ذہول) ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25620) من طريق معمر، عن هشام بن عروة، به - بنحو ما سيأتي عند المصنف برقم (6868) من طريق ابن أبي مليكة عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 42/ (25620) میں معمر کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ اسی طرح ہے جیسے مصنف کے ہاں آگے چل کر نمبر (6868) پر ابن ابی ملیکہ عن عائشہ کے طریق سے آئے گی۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1881)، وابن ماجه (288)، والنسائي (404) و (1345) من طريق عثام بن علي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1881)، ابن ماجہ (288) اور نسائی (404) و (1345) نے عثام بن علی کلابی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 519 in Urdu