🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
319. ذكر مناقب محمد بن عياض الزهري رضى الله عنه - حرمة عورة الصغير كحرمة عورة الكبير
سیدنا محمد بن عیاض زہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — بچے کی ستر کی حرمت بھی بڑے کی ستر کی حرمت کی طرح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5198
أخبرَناهُ محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو موسى وبُندارٌ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سِماك، عن عبد الله بن أبي سفيان بن الحارث بن عبد المُطَّلب، قال: كان لرجلٍ على رسول الله ﷺ تَمرٌ، فأتاه يَتقاضاه، فاستقرضَ النبيُّ ﷺ من خَولةَ بنتِ حَكيمٍ تمرًا، فأعطاهُ إياه، وقال:"أمَا إنّه قد كان عِندي تمرٌ، لكنه قد كان عَثَريًا"، ثم قال:"كذلك يفعلُ عِبادُ الله المؤمنون، إنَّ الله لا يَتَرحَّمُ على أمّةٍ لا يأخذُ الضعيفُ منهم حقَّه غيرَ مُتَعتَعٍ" (3) . ذكرُ مناقب محمد بن عِيَاض الزُّهْري ﵁ -
سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی کچھ کھجوریں قرضہ دینی تھیں، وہ شخص آیا اور اپنی کھجوروں کا تقاضا کرنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خولہ بنت حکیم سے کچھ کھجوریں ادھار منگوا کر اس کو دیں اور کہا: میرے پاس کھجوریں تو ہیں مگر وہ عثری (گری ہوئی) کھجوریں ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ کے نیک بندے اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اس قوم پر رحم نہیں کرتا جس قوم کے غریب، امیروں سے اپنا حق سخت کلامی کئے بغیر وصول نہیں کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5198]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5198 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وقد تقدَّم عند المصنف برقم (5193) عن أبي زكريا العَنْري وأبي الحسن بن موسى الفقيه، كلاهما عن إبراهيم بن أبي طالب.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس سند کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"۔ یہ مصنف کے ہاں نمبر (5193) پر ابو زکریا العنری اور ابو الحسن بن موسیٰ الفقیہ سے، اور وہ دونوں ابراہیم بن ابی طالب سے روایت کرتے ہوئے گزر چکا ہے۔
وأخرجه البيهقي 10/ 93 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے [10/ 93] میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔