🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
330. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي عُبَيْدَةَ ابْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5225
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، قال: قال عمرُ لأصحابِه: تَمنَّوا، فجعل كلُّ رجلٍ منهم يَتَمنَّى شيئًا، فقال: لكني أتمنّى بيتًا مملُوءًا رجالًا مثلَ أبي عُبيدة بن الجَرّاح، فقالوا له: ما أَلَوتَ الإسلامَ خيرًا، قال: ذلك أردْتُ (2) .
ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تمنا کرو (کہ تم کیا چاہتے ہو)“، تو ان میں سے ہر شخص کسی نہ کسی چیز کی تمنا کرنے لگا، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن میں تو ایسے گھر کی تمنا کرتا ہوں جو ابو عبیدہ بن جراح جیسے (بہادر اور امین) مردوں سے بھرا ہوا ہو“، لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے تو اسلام کی خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آپ نے فرمایا: ”میرا یہی مقصد تھا“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5225]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه منقطع، لأنَّ ابن أبي نجيح - وهو عبد الله بن أبي نجيح يسار المكي - لم يُدرك عمر بن الخطاب، لكن رُوي هذا عن عمر بن الخطاب من وجهٍ آخر حسن الإسناد تقدَّم عند المصنف برقم (5075). سفيان: هو ابن عُيينة، وابن أبي ...» [ترقيم الرساله 5225] [ترقيم الشركة 5180]

الحكم على الحديث:
خبر صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5225 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه منقطع، لأنَّ ابن أبي نجيح - وهو عبد الله بن أبي نجيح يسار المكي - لم يُدرك عمر بن الخطاب، لكن رُوي هذا عن عمر بن الخطاب من وجهٍ آخر حسن الإسناد تقدَّم عند المصنف برقم (5075). سفيان: هو ابن عُيينة، وابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر "صحیح" ہے، اور اس سند کے راوی ثقہ ہیں لیکن یہ "منقطع" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ ابن ابی نجیح (عبداللہ بن ابی نجیح یسار المکی) نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ البتہ یہ عمر بن خطاب سے ایک اور "حسن سند" والے طریق سے مروی ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (5075) پر گزر چکا ہے۔ "سفیان" سے مراد ابن عیینہ ہیں، اور "ابن ابی عمر" سے مراد محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 382، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 11/ 72، وابن أبي الدنيا في "المتمنّين" (39)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 25/ 474 من طرق عن سفيان بن عيينة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" [3/ 382] میں، بلاذری نے "انساب الاشراف" [11/ 72] میں، ابن ابی الدنیا نے "المتمنین" (39) میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" [25/ 474] میں سفیان بن عیینہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
قولهم: ما أَلَوتَ، أي: ما قَصَّرت.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "ما أَلَوتَ" کا مطلب ہے: تم نے کوئی کمی/کوتاہی نہیں کی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5225 in Urdu