المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
361. ذكر مناقب خالد بن عرفطة رضي الله عنه
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5303
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا علي بن المَديني وعبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي قالا: حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابن أخي ابن شهاب، عن عمِّه، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن عبد الله بن عَدي بن الحَمْراء، قال: وَقَفَ رسولُ الله ﷺ على الحَزْوَرةِ، فقال:"والله إني لأعلَمُ أنكِ خيرُ أرضِ الله، وأحبُّ أرض الله إليَّ، ولولا أني أُخرِجتُ منك ما خَرجتُ" (1) . ذكرُ مناقب خالد بن عُرْفُطةَ ﵁ -
عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام حزورہ پر کھڑے ہوئے اور (سرزمین مکہ کو مخاطب کر کے) فرمایا: (اے سرزمین مکہ) خدا کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ کی پوری روئے زمین سے افضل جگہ ہو، اور اللہ کی تمام زمین سے بڑھ کر مجھے محبوب ہو، اگر مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی یہاں سے نہ جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5303]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5303 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد العزيز بن محمد - وهو الدَّراوردي - إلّا أنه وهمَ في إسناده هو أو شيخه محمدُ بن عبد الله ابن أخي الزهري، فقال فيه: محمد بن جبير عن عبد الله بن عدي، والمحفوظ فيه عن الزهري: عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عدي كما سلف برقم (4317) وكما سيأتي برقم (5939)، ولفظه فيهما: "وأحب أرض الله إلى الله"، وهو المعروف المشهور في رواية الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "قوی" ہے جس کی وجہ "عبد العزیز بن محمد" (جو کہ الدراوردی ہیں) ہیں، سوائے اس کے کہ ان سے یا ان کے شیخ "محمد بن عبد اللہ" (زہری کے بھتیجے) سے سند میں "وہم" (غلطی) ہوئی ہے۔ انہوں نے اس میں "محمد بن جبیر عن عبد اللہ بن عدی" کہا، حالانکہ اس میں "محفوظ" (صحیح) سند زہری سے یوں ہے: "عن ابی سلمہ بن عبد الرحمن عن عبد اللہ بن عدی"، جیسا کہ نمبر (4317) پر گزر چکا اور نمبر (5939) پر آگے آئے گا۔ اور ان دونوں جگہوں پر الفاظ یہ ہیں: "اور اللہ کے نزدیک اللہ کی سب سے محبوب زمین"، اور یہی حدیث کی روایت میں "معروف و مشہور" ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (454) عن الحميدي، عن عبد العزيز الدراوردي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الاوسط" (454) میں حُمیدی سے، انہوں نے عبد العزیز الدراوردی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔