المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
383. ذِكْرُ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5348
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عِياضُ بن غَنْم بن زُهير، كان من أشرافِ قُريش، وذكره ابن قيس الرُّقيّات، فقال: وعِياضٌ مِنَا عِياضُ بن غَنْمٍ … عِصمةُ الدِّين حين حُبَّ الوَفاءُ (2) هو أول من أجاز الدَّرْبَ إلى الروم.
مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ عیاض بن غنم بن زہیر قریش کے اشراف میں سے تھے، ابن قیس رقیات نے ان کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں: ”ہمارے عیاض بن غنم تو وفاداری کے وقت دین کی پناہ گاہ ثابت ہوئے“، وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رومیوں کی طرف جانے والے درے (راستے) کو عبور کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5348] [ترقيم الشركة 5303]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5348 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
عياض وما عياضُ بن غَنْم … كان من خير ما أجَنّ النِّسَاءُ
📝 نوٹ / توضیح: عیاض اور عیاض بن غنم کیا ہیں... وہ تو اس بہترین چیز میں سے ہیں جسے عورتوں نے چھپائے رکھا (یعنی جنم دیا)۔
وما في نسخنا الخطية هو الموافق لما في "نسب قريش" لمصعب بن عبد الله الزبيري ص 443، غير أنه جاء فيه: عصمة الجار.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں جو ہے وہ "نسب قریش" (مصعب بن عبد اللہ الزبیری، ص 443) کے موافق ہے، سوائے اس کے کہ وہاں "عصمۃ الجار" آیا ہے۔
وما في المطبوع هو ما جاء في "ديوان الرُّقَيّات" ص 94، و "الروض الأُنف" للشهيلي 5/ 173، و "الجوهرة في نسب النبي وأصحابه العشرة" لمحمد بن أبي بكر البُرِّي 1/ 137.
📖 حوالہ / مصدر: اور جو مطبوعہ میں ہے وہ "دیوان الرقیّات" (ص 94)، سہیلی کی "الروض الانف" (5/ 173) اور محمد بن ابی بکر البری کی "الجوہرہ" (1/ 137) میں آیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5348 in Urdu