المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
383. ذكر عياض بن غنم الأشعري رضى الله عنه
سیدنا عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5347
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحَبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبيه، عن جدَّه، عن عائشة قالت: قَدِمْنا من سفر فتُلقِّينا بذي الحُلَيفة، وكان غلمانُ الأنصارِ يَتَلقَّون بهم إذا قَدِمُوا، فَلَقُوا أُسَيدَ بن حُضَير، فنَعَوا إليه امرأتهَ، فتقنَّع يبكي، قالت: فقلتُ له: سبحانَ الله، أنتَ من أصحاب رسول الله ﷺ، ولكل السابقةُ، ما لَكَ تبكي على امرأة؟! فكَشَفَ عن رأسه، ثم قال: صدقتِ لَعَمْرُ اللَّهِ، وَاللَّهِ ليَحِقُّ أَن لا أَبكيَ على أحدٍ بعد سعدِ بن مُعاذٍ، وقد قال رسولُ الله ﷺ ما قال، قلتُ له: وما قال؟ قال:"لقد اهتزَّ العرشُ لوفاةِ سعدِ بن معاذٍ". قالت عائشةُ: وأُسَيدُ بن حُضَير يَسيرُ بيني وبين رسولِ الله ﷺ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ عِياض بن غَنْم الأشعَري (1) ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5265 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5265 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم سفر سے واپس لوٹے اور ذوالحلیفہ میں پہنچے (وہاں عادت یہ تھی کہ جب ہم کسی بھی سفر سے واپس آتے تو انصار کے بچے وہاں پر ان سے ملاقات کیا کرتے تھے تو حسب عادت) وہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان کی بیوی کے فوت ہونے کی اطلاع دی تو سیدنا اسید بن حضير رضی اللہ عنہ سر جھکا کر رونے لگ گئے، ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ صحابی رسول ہیں، اور آپ کو وہ فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوئیں۔ آپ عورت پر رو رہے ہو؟ انہوں نے سر اوپر اٹھایا اور کہنے لگے: خدا کی قسم! آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ اللہ کی قسم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا تھا اس کے بعد کسی اور پر رونے کا حق بھی نہیں بنتا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش الہی کانپ اٹھا تھا “۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چلا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5347]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5347 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لِينٌ كما تقدم بيانه برقم (4991).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے جیسا کہ نمبر (4991) میں بیان ہو چکا۔
(1) نسبة عياض بن غَنْم هذا أشعريًا غلطٌ، وصاحبُ الترجمة إنما هو فِهريٌّ قرشيٌّ كما سيأتي لا أشعريٌّ يمنيّ، فذاك رجلٌ آخر، قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 758 وذكر الحديثَ الآتي برقم (5351) ونسبةَ عياضٍ فيه أشعريًا: أظن الأشعريَّ وهمٌ، والله أعلم، فإنَّ الذي وليَ الإمرة حيث كان هشام بالشام هو الفِهري لا الأشعري، لكن للأشعري حديث آخر؛ فذكره.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) عیاض بن غنم کی نسبت "اشعری" کرنا غلط ہے، صاحبِ ترجمہ "فہری، قرشی" ہیں (جیسا کہ آگے آئے گا)، نہ کہ "اشعری، یمنی" (جو کہ ایک اور شخص ہیں)۔ حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" (4/ 758) میں حدیث نمبر (5351) اور اس میں عیاض کی نسبت "اشعری" ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "میرا خیال ہے کہ اشعری (کہنا) وہم ہے، واللہ اعلم، کیونکہ جس کو امارت (گورنری) ملی جب ہشام شام میں تھے وہ فہری تھے اشعری نہیں، البتہ اشعری کی ایک اور حدیث ہے..." پھر انہوں نے وہ ذکر کی۔
(2) في المطبوع:
📝 نوٹ / توضیح: (2) مطبوعہ نسخے میں ہے: