المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
392. ذكر أخيه سويد بن مقرن رضى الله عنه
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ (سیدنا نعمان کے بھائی) کا ذکر
حدیث نمبر: 5362
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن علقمة بن عبد الله المُزَني، عن مَعقِل بن يَسار: أنَّ عمر بن الخطاب شاوَرَ الهُرمُزانَ فِي أَصبَهانَ وفارسَ وأَذْربِيجانَ، فقال: يا أمير المؤمنين، أصبهانُ الرأسُ، وفارسُ وأَذْرَبِيجانُ الجناحان، فإذا قطعتَ أحدَ الجناحين، ناءَ الرأسُ (3) بالجناح، وإن قطعتَ الرأسَ وقع (4) الجناحان، فابدأ بأصبَهانَ، فدخل عمرُ المسجدَ، فإذا هو بالنعمانِ بن مُقَرِّن يُصلِّي، فانتظره حتى قضى صلاتَه، فقال له: إني مُستعمِلُك، فقال: أما جابيًا فلا، وأما غازيًا فنَعَم؟ قال: فإنك غازٍ، فسَرَحَه، وبعثَ إلى أهل الكوفة أن يُمِدُّوه ويَلْحَقُوا به، وفيهم حذيفةُ بن اليمان والمُغيرة بن شعبة والزُّبير بن العوّام والأشعث بن قيس وعمرو بن مَعْدِي كَرِب وعبد الله بن عمرو، فأتاهم النعمان وبينه وبينهم نهر، فبعث إليهم المغيرةَ بنَ شعبة رسولًا، ومَلِكُهم ذو الحاجبين (1) ، فاستشار أصحابَه، فقال: ما تَرَون، أقعُدُ لهم في هيئة الحرب أو في هيئة المُلك وبَهجَتِه؟ فجلس في هيئة المُلك وبَهجَته على سريرٍ، ووضع التاجَ على رأسِه وحولَه سِماطَين (2) عليهم ثياب الدِّيْباج، والقِرَطةُ، والأسْوِرَةُ، فجاء المغيرة بن شعبة، فأُخِذ بضَبْعَيه وبيده الرمحُ والترسُ والناسُ حولَه سِماطَين على بِساطٍ له، فجعل يَطعُنه برُمحِه، فخرَّقه لكي يَتطيّروا، فقال له ذو الحاجبين (3) : إنكم يا معشرَ العرب أصابَكم جوعٌ شديدٌ وجَهدٌ فخَرجتُم، فإن شئتُم مِرْناكم ورجعتُم إلى بلادكم، فتكلَّم المغيرةُ فحمدَ الله وأثنى عليه، وقال: إنا كنا مَعشَر العرب نأكل الجِيَف والمَيتة، وكان الناسُ يَطَؤُونا ولا نَطَؤُهم، فابتعثَ اللهُ منا رسولًا في شَرَفٍ منا؛ أوسطُنا حَيًّا، وأصدقنا حديثًا، وإنه وعدَنا أنَّ هاهنا ستُفتَح علينا، وقد وجدْنا جميعَ ما وعدَنا حقًّا، وإني لأرى هاهنا بِزَّةً وهيئةً ما أَرى مَن معي بذاهِبينَ حتى يأخُذُوه، فقال المغيرةُ: فقالت لي نفسي: لو جمعتَ جَرامِيزَك فوَثَبَتَ وَثْبةً فجلستَ معه على السَّرير، إذ وجدتُ غَفْلَةً فَزَجَروني (4) ، وجعلوا يَجَؤُونه، فقلت: أرأيتُم إن كنتُ أنا استَحْمَقتُ (1) ، فإن هذا لا يُفعَل بالرُّسُل، وإنا لا نفعل هذا برُسُلكم إذا أَتَوْنا، فقال: إن شئتُم قَطَعْنا إليكم، وإن شئتُم قطعتُم إلينا، فقلتُ: بل نَقطَعُ إليكم. فقَطَعْنا إليهم، وصافَفْناهم فتسَلْسَلُوا كُلُّ سبعةٍ في سلسلةٍ، وخمسةٍ في سلسلة، حتى لا يَفِرُّوا، قال: فرامَونا حتى أسرعُوا فينا، فقال المغيرةُ للنعمان: إنَّ القومَ قد أسرَعُوا فينا، فاحمِلْ، فقال: إنك ذو مناقبَ، وقد شهدتَ مع رسولِ الله ﷺ، ولكنّي أنا شهدتُ رسولَ الله ﷺ إذا لم يُقاتِل أولَ النهارِ أخَّر القتالَ حتى تزولَ الشمسُ وتَهُبَّ الرياحُ، وينزلُ النصرُ، فقال النعمان: يا أيها الناس، أَهتزُّ ثلاثَ هَزّاتٍ، فَأَمَّا الهَزّةُ الأولى فليَقضِ الرجلُ، حاجتَه، وأمَّا الثانية فلينظر الرجلُ في سلاحِه وسَيفِه، وأما الثالثة فإني حاملٌ فاحمِلُوا، فإن قُتِل أحدٌ فلا يَلْوي أحدٌ على أحدٍ، وإن قُتِلتُ فلا تَلْوُوا عليَّ، وإني داعٍ الله بدعوةٍ، فعزمتُ على كلِّ امرئ منكم لَمَا أمَّن عليها، فقال: اللهمَّ ارزُق اليومَ النعمانَ شهادةً بنَصْر المسلمين وافتَحْ عليهم، فأمَّن القومُ، وهَزَّ لواءَه ثلاثَ مراتٍ، ثم حَمَل، فكان أولَ صَرِيعِ، فذكرتُ وصيَّتَه فلم ألْوِ عليه، وأَعلمْتُ مكانَه، فكنا إذا قَتلْنا رجلًا منهم شُغِل عنا أصحابُه يَجُرُّونه، ووقع ذو الحاجِبَين (2) من بَغْلتِه الشهباءِ، فانشَقَّ بطنُه، وفَتحَ اللهُ على المسلمين، فأتيتُ النعمانَ وبه رَمَقٌ، فأتيتُه بماءٍ فجعلتُ أصُبُّه على وجهه أغسِلُ الترابَ عن وجهِه، فقال: مَن هذا؟ فقلت: مَعقِلُ بن يَسار، فقال: ما فعلَ الناسُ؟ فقلت: فَتحَ اللهُ عليهم، فقال: الحمدُ لله، اكتُبوا بذلك إلى عُمر، وفاضَتْ نفسه، فاجتمع الناسُ إلى الأشعثِ بن قيس، قال: فأتينا أمَّ ولدِه فقُلْنا: هل عَهِدَ إليك عَهْدًا؟ قالت: لا، إلَّا سُفَيطٌ له فيه كتابٌ، فقرأتُه فإذا فيه: إن قُتل فلانٌ ففُلان، وإن قُتل فلانٌ … (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5279 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5279 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصبہان، فارس اور آذربائیجان کے بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے کہا: اے امیرالمومنین! اصبہان ”سر“ ہے اور فارس اور آذربائیجان بازو ہیں۔ اگر دو بازوؤں میں سے ایک کٹ جائے تو سر کے ساتھ دوسرا بازو کام کر سکتا ہے۔ لیکن اگر سر کو کاٹ دیا جائے تو دونوں بازو بھی بیکار ہو جاتے ہیں، اس لئے آپ اصبہان سے آغاز فرمایئے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے، اس وقت نعمان بن مقرن نماز پڑھ رہے تھے، آپ ان کا انتظار کرتے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ان سے کہا: میں تمہیں عامل بنانا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے میں نہیں جاؤں گا، ہاں اگر جہاد کے لئے بھیج رہے ہیں تو میں تیار ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں جہاد کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ یہ سن کر وہ خوش ہو گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی جانب پیغام بھیجا کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کی مدد کریں۔ ان میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ ان لوگوں اور اصبہان کے درمیان ایک نہر واقع تھی، انہوں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب بطور سفیر روانہ فرمایا۔ ان کا بادشاه ذوالحاجبین تھا، اس نے اپنے وزراء سے مشورہ کیا کہ مجھے ان کے سامنے جنگلی انداز میں بیٹھنا چاہئے یا شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ؟ (وزراء کے مشورے کے مطابق) وہ شاہی تاج سر پر سجا کر بادشاہوں کے رعب اور دبدبہ کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھ گیا، امراء اور وزراء ریشمی کپڑوں میں ملبوس، سونے کی بالیاں اور کنگن پہنے ہوئے، اس کے اردگرد کھڑے ہو گئے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے، انہوں نے اس کو بازوؤں سے پکڑا، اس وقت ان کے ہاتھ میں نیزہ اور ڈھال تھی، لوگ ان کے اردگرد قطار اندر قطار ریشمی قالین پر کھڑے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے نیزے کے ساتھ اس کے قالین کو کاٹ کر پھینک دیا تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ ہم کس موڈ میں آئے ہیں۔ ذوالحاجبین نے ان سے کہا: اے عربیو! تمہیں شدید ننگ و افلاس اور تنگ دستی کا سامنا ہے اسی لئے تم لوگ اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے آئے ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہیں دولت سے نواز کر واپس بھیج دیتا ہوں۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ لب کشا ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: بے شک ہم عرب کے باشندے ہیں، ہم مردار کھانے والی قوم تھے لوگ آ کر ہمیں شکست دے جاتے تھے مگر ہمیں کسی کے مقابلے کی جرأت نہ ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ نے (کرم کیا اور) ہم میں ایک رسول بھیجا جن کا تعلق ایک عالی خاندان کے ساتھ ہے، جو کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیشہ سچی بات کہتے ہیں، اور انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی ہے کہ یہ ملک ہم فتح کریں گے اور انہوں نے آج تک جتنی بھی پیشین گوئیاں کی ہیں ہم نے ان تمام کو سچ پایا ہے۔ میں یہاں پر جو سامان ضرب و حرب دیکھ رہا ہوں، میں نہیں سمجھتا کہ میں اور میرے ساتھی یہ لئے بغیر واپس جائیں گے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے دل میں یہ سوچ آ رہی تھی کہ مجھے کود کر اس کے ساتھ بیٹھ جانا چاہئے، چنانچہ میں نے ان میں تھوڑی سی غفلت پائی تو وہاں سے ایک جست لگائی اور کود کر تخت شاہی پر اس کے برابر بیٹھ گیا، ان لوگوں نے مجھے ڈانٹا اور بہت جھڑکا، اور ذوالحاجبین کو اکسانے لگے۔ میں نے ان سے کہا: اگر میں نے کوئی بے وقوفی کا کام کر لیا ہے تو (اس قانون کا تو لحاظ کرو کہ) دوسرے ملک کے سفیروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا کرتے، اور جب تمہارے سفیر ہمارے پاس آتے ہیں، ہم نے تو کبھی بھی ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا۔ اس نے کہا: اگر چاہو تو تم ہمارے بارے میں فیصلہ کرو اور چاہو تو ہم تمہارے بارے میں فیصلہ کریں میں نے کہا: ہم تمہارا فیصلہ کریں گے، اس کے بعد ہم نے فیصلہ کر دیا ہم نے ان کے مقابلے میں صف بندی کر لی، انہوں نے سات سات اور پانچ پانچ آدمیوں کی ایک زنجیر بنا دی تاکہ کوئی بھاگ نہ سکے، پھر انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی، اور ہم پر جھپٹ پڑے۔ سیدنا مغیرہ نے سیدنا نعمان سے کہا: ان لوگوں نے جلد بازی میں ہم پر حملہ کر دیا ہے اس لئے اب آپ بھی حملہ کر دیں۔ انہوں نے کہا: آپ بڑی فضیلتوں والے ہیں، بے شک آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت بھی کی ہے۔ لیکن میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہا ہوں، اگر آپ صبح سویرے حملہ نہ کرتے تو پھر شام تک تاخیر کرتے، جب سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چلنا شروع ہو جاتیں تو حملہ کرتے اور (اللہ کے فضل و کرم سے) فتح نصیب ہوتی۔ پھر سیدنا نعمان نے کہا: اے لوگو میں تین مرتبہ جھنڈا لہراؤں گا، پہلی مرتبہ ہر شخص اپنی حاجات سے فارغ ہو لے، دوسری مرتبہ اپنے ہتھیار وغیرہ تیار کر لیں اور تیسری مرتبہ میں حملہ آور ہو جاؤں گا تو تم بھی فوراً حملہ کر دینا۔ اگر کوئی شہید ہو جائے تو دوسرا اس (کو اٹھانے) کے لئے نیچے نہ جھکے، بلکہ اگر میں بھی شہید ہو جاؤں تو مجھے اٹھانے کے لئے بھی کوئی نیچے نہ جھکے، میں اللہ کی دعوت پیش کرنے والا ہوں، میں تم میں سے ہر شخص کے لئے اس چیز کا ارادہ کرتا ہوں جس پر وہ آمین کہے گا۔ پھر انہوں نے یوں دعا مانگی ”یا اللہ! آج نعمان کو ایسی شہادت عطا فرما جو مسلمانوں کے لئے فتح و نصرت کا باعث ہو۔ لوگوں نے اس پر آمین کہا۔ پھر انہوں نے تین مرتبہ جھنڈا لہرایا اور حملہ آور ہو گئے۔ اس دن سیدنا نعمان ہی سب سے پہلے زخمی ہوئے، مجھے ان کی وصیت یاد آ گئی اور میں ان کے لئے ذرا بھی نیچے نہیں جھکا بلکہ ان کی جگہ سنبھال کر جنگ جاری رکھی۔ (اس دن حالات اس طرح ہو گئے تھے کہ) ہم ان کا ایک آدمی بھی قتل کرتے تو وہ سب اس کی طرف بھاگ پڑتے اور اس کو گھسیٹتے پھرتے۔ اسی دن ذوالحاجبین اپنی سواری سے نیچے گر پڑا، اس کا پیٹ پھٹ گیا، اور الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ میں سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو اس وقت ان میں ابھی زندگی کی کچھ رمق باقی تھی، میں ان کے پاس پانی لے کر آیا اور ان کے چہرے سے مٹی دھول کو صاف کیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے جواباً: کہا معقل بن یسار۔ انہوں نے پوچھا: لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: الله تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی ہے۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب خط لکھ دو۔ اس کے بعد ان کی روح پرواز کر گئی، لوگ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے، وہ فرماتے ہیں ہم ان کی ”ام ولد“ (وہ لونڈی جس کو آقا نے کہہ رکھا ہو کہ میرا بچہ پیدا کرنے کے بعد تو آزاد ہے) کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تم سے کوئی عہد لے رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ مگر ایک بریف کیس ہے اس میں ایک خط موجود ہے۔ ہم نے اس کو پڑھا، ان میں متعدد لوگوں کی شہادت کے بارے میں تفصیلات لکھی ہوئی تھیں۔ ابوعثمان نہدی فرماتے ہیں: وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ پڑھا۔ پھر ایک دوسرے شخص کے بارے میں بھی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں، آپ نے مزید لوگوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ باقی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5362]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5362 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) معناه: نهض مُثقلًا حتى مالَ بالحِمل.
📝 نوٹ / توضیح: (3) اس کا معنی ہے: وہ بوجھل ہو کر اٹھے حتیٰ کہ بوجھ کی وجہ سے جھک گئے۔
(4) جاء في نسخنا الخطية: وقعت، بصيغة التأنيث، والمعروف في اللغة أنَّ الجناح مذكَّر، وكذلك جاء عند سائر من خرَّج هذا الحديث: وقع الجناحان، بصيغة التذكير، على أن ما وقع في نسخنا الخطية يمكن حمله على تأويل الجناح باليد، كما قال ابن مالك في "شواهد التوضيح والتصحيح" ص 84 في بعض روايات البخاري لحديث الذباب: "فإن في إحدى جناحيه داءً والأخرى شفاءً، قال: الجناح مذكَّر ولكنه في الطائر بمنزلة اليد، فجاز تأنيثه مؤولًا بها.
📝 نوٹ / توضیح: (4) ہمارے قلمی نسخوں میں "وقعت" (مؤنث کے صیغے کے ساتھ) آیا ہے، جبکہ لغت میں معروف یہ ہے کہ "جناح" (بازو/پر) مذکر ہے۔ اسی طرح دیگر تخریج کرنے والوں کے ہاں بھی "وقع الجناحان" (مذکر کے صیغے کے ساتھ) آیا ہے۔ البتہ جو ہمارے نسخوں میں ہے اسے "جناح" کو "ید" (ہاتھ) کے معنی میں تاویل کر کے صحیح قرار دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ابن مالک نے "شواہد التوضیح" (ص 84) میں بخاری کی مکھی والی حدیث کی بعض روایات ("فإن في إحدى جناحيه...") کے بارے میں کہا کہ "جناح" مذکر ہے لیکن پرندے میں یہ ہاتھ کے بمنزلہ ہے، اس لیے ہاتھ کی تاویل کر کے اس کی تانیث جائز ہے۔
(1) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: الجناحين، والتصويب من (م) و "تلخيص المستدرك" للذهبي وكأنها كذلك في (ص).
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "الجناحین" ہو گیا تھا، درستگی (م) اور ذہبی کی "تلخیص المستدرک" سے کی گئی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ (ص) میں بھی ایسا ہی ہے۔
(2) نصب لكونه مفعولًا به لفعل محذوف تقديره: ووضع حوله سِماطين، جملة معطوفة على جملة: ووضع التاجَ على رأسه. والسِّماطان: الجانبان.
📝 نوٹ / توضیح: (2) یہ "نصب" (زبر) کے ساتھ ہے کیونکہ یہ محذوف فعل کا مفعول بہ ہے، جس کی تقدیر ہے: "ووضع حولہ سماطین" (اور اس نے اپنے گرد دو صفیں کھڑی کیں)۔ یہ جملہ "ووضع التاج علی رأسہ" پر معطوف ہے۔ "السِّمَاطَان": دو پہلو یا جانب۔
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الجناحين، والتصويب من "تلخيص المستدرك".
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الجناحین" ہو گیا تھا، درستگی "تلخیص المستدرک" سے کی گئی ہے۔
(4) كذا جاءت العبارة في أصول "المستدرك"، وفيها حذفٌ يدل عليه ما تقدَّم، وقد جاء مبينًا في "أخبار أصبهان" لأبي نُعيم 1/ 22 إذ أخرجه من طريق حجاج بن منهال أيضًا، ولفظه: لو جمعت جراميزك فوثبتَ وثبةً فجلستَ معه على السرير حتى يتطيروا، فوجدتُ غفلةً فوثبتُ وثبةً فجلستُ معه على السرير، فزجروه ووطئوه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) "مستدرک" کے اصول (نسخوں) میں عبارت ایسے ہی آئی ہے، اور اس میں کچھ حذف ہے جس پر پچھلا کلام دلالت کرتا ہے۔ یہ حذف ابو نعیم کی "اخبار اصبہان" (1/ 22) میں واضح ہے جہاں انہوں نے حجاج بن منہال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں: "(مغیرہ بن شعبہ نے کہا) اگر تم اپنے جسم کو سمیٹ کر ایک چھلانگ لگاؤ اور اس (بادشاہ) کے ساتھ تخت پر بیٹھ جاؤ تاکہ وہ بدشگونی لیں... تو میں نے غفلت کا موقع پایا اور چھلانگ لگا کر اس کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا، تو انہوں نے اسے ڈانٹا اور پاؤں تلے روندا۔"
(1) تحرَّفت في نسخنا الخطية إلى: استجمعت، والجادة ما أثبتناه وفاقًا لمصادر تخريج الخبر، ومعنى استحمقت: جهلتُ وسفهت.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "استجمعت" ہو گیا تھا۔ درست وہی ہے جو ہم نے خبر کے مصادرِ تخریج کے موافق (متن میں) ثابت کیا ہے (یعنی "استحمقت")۔ اور "استحمقت" کا معنی ہے: میں نے جہالت اور بیوقوفی کا مظاہرہ کیا۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: الجناحين، والمثبت على الصواب من (ص) و (م) و "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "الجناحین" ہو گیا تھا، جو متن میں صحیح ثابت کیا گیا ہے وہ (ص)، (م) اور "تلخیص الذہبی" سے ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو عِمران الجَوْني: هو عبد الملك بن حَبيب.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "ابو عمران الجونی" سے مراد: عبد الملک بن حبیب ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم في "أخبار أصبهان" 1/ 21 - 22 عن سليمان بن أحمد الطبراني، عن علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "اخبار اصبہان" (1/ 21-22) میں سلیمان بن احمد الطبرانی سے، انہوں نے علی بن عبد العزیز سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه فيه أيضًا من طريق أبي مسلم الكشِّي، عن حجاج بن المنهال، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابو نعیم نے اسے وہیں ابو مسلم الکشی کے طریق سے، انہوں نے حجاج بن منہال سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1613) عن الحسن بن علي الخلال، عن عفان بن مسلم والحجاج بن منهال، عن حماد بن سلمة، به. لكنه اختصره فلم يَسُق منه سوى الذي حكاه النعمان بن مقرّن عن النبي ﷺ في توقيته للغزو، وقد تقدَّم هذا القدر منه برقم (2578) من طريق موسى بن إسماعيل عن حماد بن سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1613) نے حسن بن علی الخلال سے، انہوں نے عفان بن مسلم اور حجاج بن منہال سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: لیکن انہوں نے اسے مختصر کر دیا اور صرف وہ حصہ بیان کیا جو نعمان بن مقرن نے نبی ﷺ سے غزوے کے وقت کے تعین کے بارے میں بیان کیا تھا۔ یہ حصہ نمبر (2578) پر موسیٰ بن اسماعیل کے طریق سے گزر چکا ہے جو حماد بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
وسيأتي عند المصنف مختصرًا بأول حروف هذا الخبر برقم (6615) عن أبي بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ، كلاهما عن علي بن عبد العزيز، بقول الهرمزان: يا أمير المؤمنين أصبهانُ الرأس.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (6615) پر اس خبر کے ابتدائی الفاظ کے ساتھ مختصراً آئے گی، جو ابوبکر بن اسحاق اور علی بن حمشاذ سے، وہ دونوں علی بن عبد العزیز سے روایت کرتے ہیں، ہرمزان کے اس قول کے ساتھ: "اے امیر المومنین! اصبہان سر ہے۔"
وأخرجه بنحو سياقة المصنف هنا: ابن أبي شيبة 8/ 13 - 12 عن عفان بن مسلم، و 13/ 12 عن شاذان أسود بن عامر وخليفة بن خياط في "تاريخه" ص 148 - 149 عن موسى بن إسماعيل، والطبري في "تاريخه" 4/ 141 - 143، وأبو الشيخ في "طبقات المحدثين بأصبهان" 1/ 178، وابن الجوزي في "المنتظم" 4/ 267 - 269 من طريق عبد الرحمن بن مَهدي، وابن أبي عمر العَدَني في "مسنده" كما في "إتحاف الخِيَرة المهرة" للبوصيري (4629)، و "المطالب العالية" للحافظ (4365) عن بشر بن السَّري، والبلاذري في "فتوح البلدان" ص 96، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" 5/ 403 عن شيبان بن فَرُّوخ كلهم عن حماد بن سلمة، به. وبعضهم يختصره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مصنف کے سیاق کی طرح ابن ابی شیبہ (8/ 12-13) نے عفان بن مسلم سے، اور (13/ 12) شاذان اسود بن عامر سے؛ خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ (ص 148-149) میں موسیٰ بن اسماعیل سے؛ طبری نے اپنی تاریخ (4/ 141-143)، ابو الشیخ نے "طبقات المحدثین باصبہان" (1/ 178) اور ابن الجوزی نے "المنتظم" (4/ 267-269) میں عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے؛ ابن ابی عمر العدنی نے اپنی "مسند" (بحوالہ "اتحاف الخیرۃ المہرہ" 4629 اور "المطالب العالیہ" 4365) میں بشر بن السری سے؛ بلاذری نے "فتوح البلدان" (ص 96) اور ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابۃ" (5/ 403) میں شیبان بن فرّوخ سے تخریج کیا ہے۔ یہ سب حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، اور بعض نے اسے مختصر کیا ہے۔
وسلف مختصرًا بتوقيت النبي ﷺ للغزو عند المصنف برقم (2578).
📖 حوالہ / مصدر: نبی ﷺ کے غزوے کا وقت مقرر کرنے کے ذکر کے ساتھ یہ مختصراً نمبر (2578) پر گزر چکا ہے۔
قوله: فسَرَحه، معناه: أرسله، ويقال بالتخفيف والتشديد من السَّرْح والتسريح.
📝 نوٹ / توضیح: "فسَرّحہ": اس کا معنی ہے: اسے بھیجا۔ یہ "سَرح" اور "تسریح" سے تخفیف اور تشدید دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔
وقوله: جابيًا: أي قائمًا على جبَاية الخراج ونحوه من الأموال.
📝 نوٹ / توضیح: "جابیاً": یعنی خراج اور اموال کی وصولی (جبایہ) پر مامور۔
والديباج: الثياب المتخذة من الإبريسم، أي: الحرير، وخصَّه بعضهم بالخام منه.
📝 نوٹ / توضیح: "الدِیبَاج": ابریشم (ریشم) سے بنے ہوئے کپڑے، اور بعض نے اسے کچے ریشم کے ساتھ خاص کیا ہے۔
والقِرَطة: وزان عِنَبة، وهو جمع قُرْط، وهو ما يُعلّق في شَحْمة الأذن.
📝 نوٹ / توضیح: "القِرَطَۃ": یہ "عِنَبَۃ" کے وزن پر ہے اور "قُرط" کی جمع ہے، یہ وہ زیور ہے جو کان کی لو میں لٹکایا جاتا ہے (بالیاں)۔
وقوله: مِرْناكم، أتيناكم بمِيرة، أي: طعامٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "مِرْنَاکم": ہم تمہارے پاس "میرہ" (رسد/اناج) لے کر آئے۔
وقوله: أوسطُنا، أي أفضلُنا وأرفعُنا.
📝 نوٹ / توضیح: "اَوسَطُنا": یعنی ہم میں سے سب سے افضل اور بلند مرتبہ۔
والبِزَّة، بكسر الباء: الهيئة. والجَرَاميز: قيل: هي اليدان والرجلان، وقيل: هي جُملة البدن، وتَجرمَز: إذا اجتمع.
📝 نوٹ / توضیح: "البِزَّۃ" (باء کے زیر کے ساتھ): ہیئت/لباس۔ "الجَرَامِیز": کہا گیا ہے کہ اس سے مراد دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں ہیں، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد پورا جسم ہے۔ "تجرمز" کا مطلب ہے: جب وہ سکڑ کر اکٹھا ہو جائے۔
وقوله: يَلْوي، أي: يلتفت ويَعطِف.
📝 نوٹ / توضیح: "یَلوِی": یعنی مڑتا ہے اور توجہ کرتا ہے۔
والشهباء: التي غلب البياضُ السوادَ فيها.
📝 نوٹ / توضیح: "الشَّہبَاء": (وہ گھوڑی) جس میں سفیدی سیاہی پر غالب ہو۔
والرَّمَق: بقية الروح.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّمَق": روح کی بقایا (آخری سانسیں)۔
وفاضَت نفسُه: خرجت.
📝 نوٹ / توضیح: "فَاضَت نَفسُہ": ان کی جان نکل گئی۔
والسُّفَيط: تصغير سَفَط، وهو وعاء يُوضع فيه الطِّيب ونحوه من أدوات النساء.
📝 نوٹ / توضیح: "السُّفَیط": یہ "سَفَط" کی تصغیر ہے، یہ ایک ڈبہ (ٹوکری) ہے جس میں خوشبو اور عورتوں کا دیگر سامان رکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5362M
قال حمّاد: فحدَّثَني عليُّ بن زيد، حدثنا أبو عثمان النَّهْدي: أنه أتى عُمرَ، فقال: ما فعل النُّعمانُ بن مُقَرِّن؟ فقال: قُتل، قال: إنا لله وإنا إليه راجعون، ثم قال: ما فعلَ فلانٌ، قلت: قُتِل يا أمير المؤمنين، وآخرين لا نَعلَمُهم، قال: قلتَ: لا نَعلَمُهم! لكنَّ الله يَعلمُهم (1) . ذكرُ أخيه سُوَيد بن مُقرِّن ﵁ -
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5362M]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5362M پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح، وهذ إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - لكن روي ذلك عن عمر بن الخطاب من وجوهٍ لم يُصرَّح فيها باسم أبي عثمان النهديّ إنما أُبهم ذكره.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ (واقعہ) صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ سند "ضعیف" ہے جس کی وجہ "علی بن زید" (جو کہ ابن جدعان ہیں) کا ضعف ہے، لیکن یہ واقعہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دیگر کئی سندوں (وجوہ) سے مروی ہے جن میں ابو عثمان النہدی کے نام کی تصریح نہیں کی گئی بلکہ ان کا ذکر مبہم رکھا گیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 13/ 12 عن عفان بن مسلم، وابن أبي عمر العَدَني في "مسنده" كما في "إتحاف الخِيَرة المهرة" للبوصيري (4629) عن بشر بن السَّري، والبلاذُري في "فتوح البلدان" ص 297 عن شيبان بن فَرُّوخ، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (13/ 12) نے عفان بن مسلم سے، ابن ابی عمر العدنی نے اپنی "مسند" (بحوالہ "اتحاف الخیرۃ المہرہ"، بوصیری: 4629) میں بشر بن السری سے، اور بلاذری نے "فتوح البلدان" (ص 297) میں شیبان بن فروخ سے تخریج کیا ہے۔ یہ تینوں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم مختصرًا عند المصنف برقم (5360) من طريق شعبة عن علي بن زيد، بذكر نعي أبي عثمان النهدي النعمانَ بن مقرِّن لعمر، وفيه بكاء عُمر عليه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (5360) پر مختصراً گزر چکی ہے، جو شعبہ کے طریق سے علی بن زید سے مروی ہے، جس میں ابو عثمان النہدی کے عمر رضی اللہ عنہ کو نعمان بن مقرن کی خبرِ وفات (نعی) دینے اور اس پر عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کا ذکر ہے۔
وأخرج قصةَ النَّعي وقولُ عمر بن الخطاب بإثرها كذلك أبو إسحاق الفزاري في "السير" (316)، وابن أبي شيبة 5/ 303 و 13/ 6، وأحمد في "العلل" برواية ابنه عبد الله (2196)، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/ 230، والبيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 46 من طريق مُدرك بن عوف، والطبري في "تاريخه" 4/ 120، وابن حبان (4756) من طريق جُبير بن حيّة، وابن أبي شيبة 13/ 15 من طريق أبي الصلت وأبي مُسافع، كلهم عن عمر بن الخطاب.
📖 حوالہ / مصدر: خبرِ وفات کا قصہ اور اس کے بعد عمر بن خطاب کا قول ابو اسحاق الفزاری نے "السیر" (316)، ابن ابی شیبہ (5/ 303, 13/ 6)، احمد نے "العلل" (روایت: عبد اللہ 2196)، یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (2/ 230) اور بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (9/ 46) میں مدرک بن عوف کے طریق سے؛ طبری نے "تاریخ" (4/ 120) اور ابن حبان (4756) نے جبیر بن حیہ کے طریق سے؛ اور ابن ابی شیبہ (13/ 15) نے ابو الصلت اور ابو مسافع کے طریق سے تخریج کیا ہے، اور یہ سب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔