المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
396. ذكر وفاة خالد بن الوليد
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5371
فحدَّثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: خالد بن الوليد بن المُغيرة بن عبد الله بن عُمر بن مَخزُوم، وأمُّه لُبابة بنت الحارث بن حَزْن الهلالية أختُ ميمونةَ بنت الحارث زوجِ النبي ﷺ، وكان خالدٌ يكنى أبا سليمان، استعملَه عمر بن الخطاب على الرُّهَا وحَرّان والرَّقّة وآمِدَ، فمَكَثَ سنةً، واستَعْفَى فأعفاهُ، فقدم المدينة فأقام بها في منزله، حتى مات بالمدينة سنة اثنتين وعشرين (2) .
محمد بن عبدالله بن نمیر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ”خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبدالله بن عمر بن مخزوم“ ان کی والدہ لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ ہیں، یہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوسلیمان تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مقام رہا، حران، رتہ اور آمد کا گورنر بنایا تھا۔ آپ نے ایک سال تو کام کیا لیکن اس کے بعد انہوں نے استعفاء دے دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا استعفاء منظور کر لیا، اس کے بعد آپ مدینہ منورہ میں آ گئے اور وقات تک اپنے گھر میں ہی قیام کیا، ان کی وفات 22 ہجری کو ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5371]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5371 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما قاله ابن نمير هنا يخالف ما رواه عنه محمد بن عبد الله الحضرمي عند الطبراني في "الكبير" 4/ (3814) من وفاة خالد بحمص سنة إحدى وعشرين، موافقًا في ذلك قول الواقدي، وهو قول الجمهور.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) ابن نمیر نے یہاں جو کہا ہے وہ اس بات کے خلاف ہے جو ان سے محمد بن عبد اللہ الحضرمی نے طبرانی کی "المعجم الکبیر" (4/ 3814) میں روایت کی ہے کہ خالد کی وفات حمص میں سنہ 21 ہجری میں ہوئی، جو کہ واقدی اور جمہور کے قول کے موافق ہے۔
وممَّن ذكر وفاة خالد بن الوليد بالمدينة جماعةٌ، منهم مصعبُ بن عبد الله الزبيري كما سيأتي برقم (5385)، مع أنَّ الذي في "نسب قريش" له ص 321 أنَّ خالدًا مات بالشام! وجزم بموته بالمدينة كذلك دُحَيمٌ عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، لكن الصحيح أنه مات بحمص كما تقدم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خالد بن ولید کی وفات مدینہ میں ذکر کرنے والوں میں ایک جماعت ہے، جن میں مصعب بن عبد اللہ الزبیری (نمبر 5385 پر آئے گا) شامل ہیں، حالانکہ ان کی کتاب "نسب قريش" (ص 321) میں ہے کہ خالد شام میں فوت ہوئے! اسی طرح دحیم عبد الرحمن بن ابراہیم الدمشقی نے بھی مدینہ میں وفات پر جزم کیا ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حمص میں فوت ہوئے جیسا کہ گزرا۔