المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
452. لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا بِهِ الْأَحْيَاءَ
ہمارے مردوں کو برا مت کہو کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچتی ہے
حدیث نمبر: 5508
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، قال: حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ذكر أبًا للعباس، فنال منه، فلَطَمَه العباسُ، فاجتمعُوا، فقالوا: والله ليلطِمَنّ العباس كما لَطَمَه، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فخَطَب فقال:"مَن أكرم الناس على الله؟" قالوا: أنتَ يا رسول الله، قال:"فإنَّ العباس منّي وأنا منه، لا تسُبُّوا أمواتنا، فتؤذُوا به الأحياء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5421 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5421 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ایک (آبائی) بزرگ کا تذکرہ برائی کے ساتھ کیا، جس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مار دیا۔ پھر اس شخص کے قبیلے والے جمع ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! وہ بھی عباس کو اسی طرح تھپڑ مارے گا جیسے انہوں نے اسے مارا ہے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اللہ کے ہاں لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، تم ہمارے مُردوں کو گالیاں مت دو کہ اس کی وجہ سے تم زندوں کو اذیت پہنچاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5508]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5508]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وهو ابن عبد الرحمن بن طلحة. وانظر ما قبله.» [ترقيم الرساله 5508] [ترقيم الشركة 5462] [ترقيم العلميه 5421]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5508 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: أبو سهل مكبرًا، وإنما هو أبو سُهيل مصغرًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (5) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو سہل" (مکبّر) ہو گیا ہے، حالانکہ یہ "ابو سہیل" (تصغیر کے ساتھ) ہے۔
(6) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وهو ابن عبد الرحمن بن طلحة. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: (6) اس کی سند محمد بن طلحہ (ابن عبدالرحمن بن طلحہ) کی وجہ سے حسن ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس سے پچھلی بحث دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5508 in Urdu