المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
453. صفة العباس على لسان ابن عباس
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صفات کا بیان
حدیث نمبر: 5508
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، قال: حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ذكر أبًا للعباس، فنال منه، فلَطَمَه العباسُ، فاجتمعُوا، فقالوا: والله ليلطِمَنّ العباس كما لَطَمَه، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فخَطَب فقال:"مَن أكرم الناس على الله؟" قالوا: أنتَ يا رسول الله، قال:"فإنَّ العباس منّي وأنا منه، لا تسُبُّوا أمواتنا، فتؤذُوا به الأحياء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5421 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5421 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے والد کا تذکرہ کیا اور ان کو برا بھلا کہنے لگ گیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو تھپڑ دے مارا، اس پر بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور کہنے لگے: خدا کی قسم! ہم بھی عباس کو اسی طرح تھپڑ ماریں گے جیسے اس نے مارا ہے۔ یہ بات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: عباس مجھ سے ہے اور میں عباس سے ہوں، تم مرے ہوؤں کو گالی مت دو کہ اس سے ان کے زندہ رشتہ داروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5508]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5508 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: أبو سهل مكبرًا، وإنما هو أبو سُهيل مصغرًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (5) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو سہل" (مکبّر) ہو گیا ہے، حالانکہ یہ "ابو سہیل" (تصغیر کے ساتھ) ہے۔
(6) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وهو ابن عبد الرحمن بن طلحة. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: (6) اس کی سند محمد بن طلحہ (ابن عبدالرحمن بن طلحہ) کی وجہ سے حسن ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس سے پچھلی بحث دیکھیں۔