المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. ربما اغتسل قبل أن ينام وربما نام قبل أن يغتسل
کبھی رسولُ اللہ ﷺ سونے سے پہلے غسل فرماتے اور کبھی غسل سے پہلے سو جاتے۔
حدیث نمبر: 552
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن حمَّاد، حدثنا كَهمَس، عن أبي العلاء، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن غُضَيف بن الحارث قال: قلت لعائشة: أكان رسولُ الله ﷺ إذا أصابه الجنابةُ اغتسل من أوله أو من آخره؟ قالت: ربما اغتسل من أولِه، وربما اغتسلَ من آخرِه، قلت: الله أكبرُ، الحمد لله الذي جَعَل في الأمر سَعَةً (2) . وصلى الله على محمد وآله أجمعين.
غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حالتِ جنابت میں ہوتے تو شروع ہی میں غسل کر لیتے تھے یا آخر میں؟“ انہوں نے فرمایا: ”کبھی آغاز ہی میں غسل فرما لیتے اور کبھی آخر میں غسل فرماتے۔“ میں نے (خوش ہو کر) کہا: ”اللہ اکبر! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 552]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 552 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن حماد: وهو الشُّعيثي. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله الكَشِّي، وأبو العلاء: هو برد بن سنان. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ خاص سند عبدالرحمن بن حماد الشعيثی کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابومسلم سے مراد "ابراہیم بن عبداللہ الکشی" ہیں اور ابوالعلاء سے مراد "برد بن سنان" ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی والی روایت ملاحظہ کریں۔