🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
492. عبادة بن الصامت غزا مع رسول الله ست غزوات
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ غزوات میں شرکت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5622
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، حَدَّثَنَا أبو أُسامة ووَكِيع، عن أسامة بن زيد، عن عُبادة بن الوليد، عن عُبادة بن الصامت؛ قال: وكان قد غزا مع رسولِ الله ﷺ سِتَّ غَزَواتٍ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5524 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ (خود اپنے بارے میں) فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ 6 غزوات میں شرکت کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5622]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5622 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) رجاله لا بأس بهم، لكن في إدراك عُبادة بن الوليد - وهو ابن عُبادة بن الصامت - لجده عُبادة بن الصامت نَظَرٌ، فإنَّ الوليد بن عُبادة بن الصامت هو الذي حدَّث ابنَه عبادةَ بن الوليد بوفاة جده عُبادة بن الصامت سنة أربع وثلاثين وأنه دفن بالرملة كما جاء ذلك عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 506، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 205، فدلَّ ذلك على أنَّ عُبادة بن الوليد لم يُدرك وفاة جَدِّه عُبادة بن الصامت.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے (لا بأس بہم)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن عبادہ بن ولید (جو عبادہ بن صامت کے پوتے ہیں) کا اپنے دادا عبادہ بن صامت کو پانا (سماع و ادراک) محلِ نظر ہے۔ کیونکہ ولید بن عبادہ بن صامت ہی ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے عبادہ بن ولید کو اپنے دادا عبادہ بن صامت کی وفات سن چونتیس (34) ہجری میں ہونے اور ان کے رملہ میں دفن ہونے کی خبر دی تھی، 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ ابن سعد کے ہاں "طبقات" 3/ 506 اور ابن عساکر کے ہاں "تاریخ دمشق" 26/ 205 میں آیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عبادہ بن ولید نے اپنے دادا عبادہ بن صامت کی وفات کا زمانہ نہیں پایا۔
وما في هذا الخبر من أنَّ عبادة غزا مع رسول الله ﷺ ستَّ غزوات، فقولٌ مشكلٌ مع ما قاله غير واحد من أهل المغازي من أنَّ عبادة شهد مع رسول الله ﷺ المشاهد كلّها، كما نصَّ على ذلك ابن إسحاق فيما تقدَّم في أول الترجمة وابنُ سعد في "طبقاته" 3/ 506، ومشاهدُ رسول الله ﷺ لا شكَّ أنها تجاوزت هذا العدد بكثير، فقولهم مقدَّم على ما جاء في هذه الرواية الفَذّة التي لم نقف عليها عند غير المصنّف، وأغلب الظن أنَّ الوهم فيها من جهة أسامة بن زيد - وهو الليثي - فقد كان في بعض رواياته مناكير، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس خبر میں جو یہ ذکر ہے کہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ (6) غزوات میں شرکت کی، یہ قول مشکل (قابلِ اشکال) ہے، کیونکہ ماہرینِ مغازی کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ حضرت عبادہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام مشاہد (غزوات) میں شرکت کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ ابن اسحاق نے ترجمہ کے شروع میں اور ابن سعد نے "طبقات" 3/ 506 میں اس کی تصریح کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے غزوات کی تعداد اس عدد (چھ) سے بہت زیادہ ہے، لہذا اہلِ سیر کا قول اس "اکیلی روایت" (شاذ) پر مقدم ہوگا جو ہمیں مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: غالب گمان یہ ہے کہ اس میں وہم "اسامہ بن زید" کی جانب سے ہے اور یہ لیثی ہیں، کیونکہ ان کی بعض روایات میں مناکیر (منکر روایات) پائی جاتی ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم۔