المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
508. طلحة والزبير جارا النبى صلى الله عليه وآله وسلم فى الجنة
سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہوں گے
حدیث نمبر: 5660
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن البَهِيّ، عن عُروة، قال: قالت لى عائشةُ: يا بُنيّ، إنَّ أباكَ من ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
سیدنا عروہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تیرے باپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کی۔ (اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی) اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَا اَصَابَھُمُ الْقَرْح (آل عمران: 172) ” وہ جو اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا “ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں حضرات نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5660]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. البهيُّ: هو عبد الله، وعروة: هو ابن الزبير بن العوّام.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "الَبہی" سے مراد عبد اللہ ہیں، اور عروہ سے مراد "ابن زبیر بن عوام" ہیں۔
وأخرجه مسلم (2418) (52) من طريق وكيع بن الجراح عن إسماعيل بن أبي خالد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2418) (52) نے وکیع بن الجراح کے طریق سے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا ذہول (بھول/چوک) ہے۔
وقد تقدَّم برقم (3204) من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابن أختي، أما والله، إنَّ أباك وجدك - تعني أبا بكر والزبير - لمن الذين قال الله ﷿ … الآية. فجعل هشام خطاب عائشة في هذه الرواية لعبد الله بن الزبير، وليس لعروة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت پہلے رقم (3204) کے تحت ہشام بن عروہ کے طریق سے، وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گزر چکی ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن زبیر سے کہا: اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد اور تمہارے نانا (مراد حضرت ابوبکر اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما) ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا... (آیت)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس ہشام نے اس روایت میں حضرت عائشہ کا خطاب "عبد اللہ بن زبیر" کی طرف رکھا ہے، نہ کہ "عروہ" کی طرف۔