المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
510. قَتْلُ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ
سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے
حدیث نمبر: 5671
أخبرنا عبد الباقي بن قانِع ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى بن حماد البَرْبَري، حَدَّثَنَا أبو السُّكَين زكريا بن يحيى الطائي، حَدَّثَنَا عمُّ أَبي (4) زَحْرُ بن حِصْن، قال: حدثني جدّي حُمَيد بن مُنهِبٍ، قال: حجَجْتُ في السنة التي قُتل فيها عثمانُ، فصادفْتُ طلحةَ والزبيرَ وعائشةَ بمكةَ، فلما سارُوا إلى البصرة سِرتُ معهم، وسار عليُّ بن أبي طالب إليهم حتَّى التَقَوا، وذلك يومُ الجَمَل، فاقتتلوا قتالًا شديدًا، وأَخذ بخِطَام الجَمَل يومئذ سبعون رجلًا، وذكر الحديثَ بطوله. وقال في آخره: وولّى الزُّبَيرُ مُنهزِمًا، فأدركَه ابن جُرمُوزٍ، وهو رجلٌ من بني تَميمٍ، فقتَلَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حمید بن منہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اس سال حج کیا جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، میری ملاقات مکہ میں سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے ہوئی، جب وہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چلا گیا، پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے مقابلے میں آئے یہاں تک کہ دونوں فریقوں کا آمنا سامنا ہوا اور وہ جنگِ جمل کا دن تھا، اس دن فریقین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اور اس روز ستر آدمیوں نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے) اونٹ کی نکیل تھامی، (راوی نے طویل حدیث ذکر کی اور) آخر میں کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ پیٹھ پھیر کر (میدان سے) روانہ ہوئے تو بنو تمیم کے ایک شخص ابن جرموز نے انہیں پا لیا اور انہیں شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5671]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5671] [ترقيم الشركة 5618] [ترقيم العلميه 5572]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5671 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عمر بن والتصويب من الموضعين المتقدمين برقم (5382) و (5504) حيث روى المصنفُ بهذا الإسناد خبرين آخرين، وهي نسخةٌ معروفةٌ.
📝 نوٹ / توضیح: (4) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "عمر بن" ہو گیا ہے، اس کی تصحیح گزشتہ دو مقامات (رقم 5382 اور 5504) سے کی گئی ہے جہاں مصنف نے اسی سند سے دو دیگر خبریں روایت کی ہیں، اور یہ ایک معروف نسخہ ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5671 in Urdu