🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
512. على وطلحة والزبير وسعد عذار عام واحد
سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم ایک ہی سال فوت ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5679
حدثنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا أبو جعفر الحَضْرمي، حدثنا حمزة بن عَوْن المَسعُودي، حدثنا محمد بن القاسم الأسَدي، حدثنا سفيانُ الثَّوْري وشَريكٌ، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن زرِّ بن حُبيش، قال: كنت جالسًا عند عليٍّ، فأُتي برأس الزُّبير ومعه قاتلُه، فقال عليٌّ: بشِّرْ قاتلَ ابن صفيّةَ بالنار، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لكلُّ نبيٍّ حَوارِيّ، وإنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَير" (1) . هذه الأحاديثُ صحيحةٌ عن أمير المؤمنين عليٍّ، وإن لم يُخرجاها بهذه الأسانيدِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5580 - هذه أحاديث صحاح
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا، وہ سر ان کا قاتل خود لے کر آیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اجازت دینے والے سے کہا: صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو دوزخ کی خوشخبری دے دو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کے حواری (مددگار) ہوتے ہیں اور میرا حواری (مددگار) زبیر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5679]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5679 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن القاسم الأسدي، فهو متروك واتهمه أحمد، لكنه قد تُوبع عليه عن سفيان الثوري وحده - دون قصة الرأس - عند أحمد في "فضائل الصحابة" (1273)، وهذا الحديث لم يُروَ وعن شريك إلّا من طريق الأسدي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے محمد بن القاسم الاسدی کی وجہ سے؛ وہ "متروک" ہے اور احمد نے اسے متہم کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن سفیان ثوری سے (سر لانے والے قصے کے بغیر) اس کی متابعت احمد کی "فضائل الصحابہ" (1273) میں موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور شریک سے یہ حدیث سوائے اسدی کے طریق کے اور کسی سے مروی نہیں ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (243) عن أبي جعفر محمد بن عبد الله الحضرمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (243) میں ابو جعفر محمد بن عبد اللہ الحضرمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔