🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. الوضوء أو الغسل من فضل غسل المرأة
عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (1) . وحدثنا أبو علي، حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَلي، حدثنا أحمد بن المِقْدام؛ قالوا حدثنا محمد بن بكر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حرب، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: أراد النبيُّ ﷺ أن يتوضَّأَ من إناء، فقالت امرأة من نسائه: يا رسول الله، إني قد توضَّأتُ من هذا، فتوضأ النبي ﷺ وقال:"الماءُ لا يُنجِّسُه شيءٌ" (2) . قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلم بأحاديث سِمَاك بن حرب، و
هذا حديث صحيح في الطهارة، ولم يُخرجاه، ولا يُحفَظُ له عِلَّة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس (پانی) سے وضو کر چکی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرما لیا اور فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
یہ حدیث طہارت کے باب میں صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 574]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 574 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: القطيعي، بزيادة ياء. والقُطَعي - بضم القاف وفتح الطاء -: نسبة إلى بني قُطيعة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے لفظ "القطیعی" (یا کی زیادتی کے ساتھ) لکھا گیا ہے، جبکہ درست لفظ "القُطَعی" (قاف پر پیش اور طا پر زبر کے ساتھ) ہے؛ یہ بنو قطیعہ کی طرف نسبت ہے۔
(2) إسناده حسن كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه محمد بن إسحاق بن خزيمة في "صحيحه" (91) عن أحمد بن المقدام العجلي ومحمد بن يحيى القطعي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے اپنی "صحیح" (91) میں احمد بن المقدام العجلی اور محمد بن یحییٰ القطعی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔