🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. أحكام سؤر الهرة
بلی کے جھوٹے کے احکام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببُخارى، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي جعفر الرازي، حدثنا سليمان بن مُسافِع بن شَيْبة الحَجَبي قال: سمعت منصورَ ابنَ صفيَّة بنت شَيْبة يحدِّث عن أمِّه صفيَّة، عن عائشة: [أنَّ رسول الله ﷺ قال في الهرَّة:"إنها ليست بنَجَسٍ، هي كبعض أهلِ البيت (2) ] " (3) . وقد صحَّ على شرط الشيخين ضدُّ هذا، ولم يُخرجاه أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 567 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے بارے میں فرمایا: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو گھر کے افراد کی طرح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 577]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 577 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين مكانه بياض في الأصول، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 246 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
📌 اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان کی عبارت اصل نسخوں میں خالی تھی، جسے ہم نے امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (1/ 246) سے مکمل کیا ہے جہاں انہوں نے امام ابوعبداللہ الحاکم کی سند اور متن سے اسے روایت کیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة سليمان بن مسافع الحجبي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند سلیمان بن مسافع الحجبی کے "مجہول" (نامعلوم الحال) ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (102)، والعقيلي في "الضعفاء" (593)، والدارقطني (217) من طريق محمد بن عبد الله بن أبي جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن خزیمہ (102)، عقیلی نے "الضعفاء" (593) میں اور دارقطنی نے (217) میں محمد بن عبداللہ بن ابی جعفر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأحسن منه إسنادًا ما أخرجه أبو داود (76) من طريق داود بن صالح التمار، عن أمه، عن عائشة مرفوعًا بلفظ: "إنها ليست بنجس، إنما هي من الطوَّافين عليكم" قالت عائشة: وقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ يتوضأ بفضلها.
🧩 متابعات و شواہد: اس سے بہتر سند وہ ہے جسے امام ابوداؤد (76) نے داؤد بن صالح التمار عن امہ (اپنی والدہ) عن عائشہ کے طریق سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ: "بلی نجس نہیں ہے، یہ تو تم پر چکر لگانے والوں میں سے ہے"۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے دیکھا ہے۔