🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
544. حديث منازعة عمار وخالد بن الوليد ، وقضاء النبى وقول النبى : " من يبغض عمارا يبغضه الله "
سیدنا عمار اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5777
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عمرو بن مرزُوق، أخبرنا شُعبة، أخبرني سَلَمة بن كُهَيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن الأشتر، عن خالد بن الوليد، قال: كان وَقَعَ بيني وبين عمّار بن ياسر كلامٌ، فشكوتُه إلى رسولِ الله - صلى الله عليه وسل -، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا خالدُ، مَن يُسابُّ عمارًا يسُبُّه الله، ومن يُعادِ (3) عمارًا يُعادِهِ اللهُ، ومن يَحْقِرُ عمارًا يَحقِرُه الله" (4) . رواه العَوّام بن حوشَبٍ عن سَلَمة بن كُهَيل، وخالفَ شعبةَ في إسنادِه؛ فإنه قال: عن سَلَمة عن علقمة عن خالد بن الوليد:
عمرو بن مرزوق کی مذکورہ اسناد کے ہمراہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خالد! جس نے عمار کو گالی دی، اللہ تعالیٰ اس کو گالی کا بدلہ دیتا ہے اور جس نے عمار سے دشمنی کی، اللہ تعالیٰ اس کو دشمنی کا بدلہ دیتا ہے جس نے عمار کی تحقیر کی، اس کی اللہ تعالیٰ تحقیر کرتا ہے۔ ٭٭ اسی حدیث کو عوام بن حوشب نے سلمہ بن کہیل کے حوالے سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں شعبہ نے مخالفت کی ہے کیونکہ انہوں نے سلمہ کے بعد علقمہ کے واسطے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5777]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5777 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) جاء في نسخنا الخطية بإثبات الياء، والجادة حذفها، وما في النسخ له وجه في العربية، انظر "شواهد التوضيح والتصحيح" لابن مالك ص 22.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ "یا" کے اثبات کے ساتھ آیا ہے، جبکہ عام قاعدہ "یا" کو حذف کرنے کا ہے۔ نسخوں میں جو صورت ہے اس کی عربی گرامر میں بھی ایک وجہ جواز موجود ہے۔ دیکھیں: ابن مالک کی "شواهد التوضيح والتصحيح" صفحہ 22۔
(4) تقدَّم برقم (5771) من طريق أبي داود الطيالسي عن شعبة.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت پیچھے نمبر (5771) پر ابو داود طیالسی کے طریق سے (جو شعبہ سے روایت کرتے ہیں) گزر چکی ہے۔